خطابات مریم (جلد اوّل) — Page 360
360 باقی تمام دنیا سے ممتاز اور واحد نظر آئیں۔پس میرے بچو! تم نے صرف دنیاوی تعلیم حاصل نہیں کرنی تم نے آسمان پر احمدیت کا درخشندہ ستارہ بن کر چمکنا ہے۔اس لئے ابھی سے جس طرح تمہاری معلمات تمہاری تربیت کرنے کی کوشش کریں۔ان کی اطاعت کرو۔اور جو سکھائیں سیکھو۔جیسا کہ میں نے پہلے بھی کہا تھا کہ اس مدرسہ کا معیار اتنا بلند ہونا چاہئے کہ لوگ ہماری منتیں کریں کہ ہمارے بچے اپنے سکول میں داخل کر لو۔کیونکہ یہاں کی تربیت کا معیار اعلیٰ ہے۔اگر اس معیار کو یہ مدرسہ حاصل نہیں کر سکتا اور اس کا معیار وہی رہتا ہے جو ایک عام سکول کا ہوتا ہے تو اس سکول کا کھولنا اور چلانا عبث ہے۔ہم نے ایک مثالی معاشرہ قائم کرنا ہے۔جس کا ہر فرد مرد اور عورت ان اخلاق اور اقدار کا حامل ہو جو آنحضرت ﷺ کے ذریعہ دنیا کی روحانی ترقی کے لئے پیش کئے گئے تھے۔یہ بھی ہو سکتا ہے جب ہر لڑکا اور لڑکی اس مدرسہ سے قرآن پڑھ کر نکلے صحیح تلفظ سے اسے پڑھنا آتا ہو۔اور قرآن سے اسے محبت ہو۔تا ا ناظرہ پڑھنے کے بعد اسے شوق ہو کہ اب اس کا مطلب بھی پڑھوں۔قرآن مجید تو ہر گھر میں ہی ختم کروا دیتے ہیں۔لیکن پچاس فیصدی بچے غلط پڑھتے ہیں۔کس قدر شرم کی بات ہے کہ بچے اردو کی کتابیں تو فرفر پڑھتے جائیں۔انگریزی کی کتب بالکل صحیح تلفظ اور لہجہ سے پڑھیں۔لیکن خدا تعالیٰ کی کتاب جس کے پڑھنے اور اس پر عمل کرنے سے ہی ہماری ساری زندگی کی فلاح و بہبودی وابستہ ہے۔وہ ہمارے بچے صحیح نہ پڑھ سکیں یا اس کے پڑھنے کی طرف توجہ نہ دیں۔تم میں سے ہر ایک کی کوشش ہونی چاہئے کہ صحیح قرآن پڑھنا آئے اور جب قرآن ناظرہ پڑھ لو تو جتنا بھی تم سکول کے زمانہ میں ترجمہ سیکھ سکو سکھو اور اسے خوب یاد کرو۔اس طرح ہر بچی کونماز کا ترجمہ اچھی طرح آنا چاہئے ایک بچی جونماز پڑھنے لگتی ہے اگر اسے ترجمہ نہیں آتا تو وہ رٹے ہوئے جملے تو پڑھ لے گی۔لیکن اسے کچھ پتہ نہیں کہ الْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَلَمِینَ کا کیا مطلب ہے۔اسے کچھ پتہ نہیں ایاک نَعْبُدُ وَإِيَّاكَ نَسْتَعِین کا کیا مطلب ہے۔اسے کچھ علم نہیں کہ اِهْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِيمَ کا کیا مطلب ہے۔لیکن وہ بچی جسے نماز کا ترجمہ آتا ہوگا۔جب صدق دل سے خدا سے درخواست کرے گی کہاے میرے مولا مجھے سیدھے راستہ پر چلا تو وہ خود بھی سیدھے راستے پر چلنے کی کوشش کرے گی۔بات ہی صرف یہ ہے کہ تمہیں پتہ ہی نہیں ہوتا کہ تم نماز میں کیا پڑھ رہے ہو۔قرآن مجید میں کیا پڑھ رہے ہو۔دعاؤں میں کیا مانگ رہے ہو۔جب بچوں کو یہ علم ہو جائے کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے کلام پاک میں کن باتوں کے کرنے کا حکم دیا ہے۔