خطابات مریم (جلد اوّل)

by Other Authors

Page 343 of 801

خطابات مریم (جلد اوّل) — Page 343

343 کے گھر میں آگ لگ گئی اور یہ نہیں اُٹھتا کہ تا آگ بجھانے میں مدد دے تو میں سچ سچ کہتا ہوں کہ وہ مجھ سے نہیں ہے۔اگر ایک شخص ہمارے مریدوں میں سے دیکھتا ہے کہ ایک عیسائی کو کوئی قتل کرتا ہے اور وہ اس کے چھڑانے کے لئے مددنہیں کرتا تو میں تمہیں بالکل درست کہتا ہوں کہ وہ ہم میں سے نہیں ہے۔۔۔۔میں حلفاً کہتا ہوں اور سچ کہتا ہوں کہ مجھے کسی قوم سے دشمنی نہیں۔ہاں جہاں تک ممکن ہے اُن کے عقائد کی اصلاح چاہتا ہوں اور اگر کوئی گالیاں دے تو ہماراشکوہ خدا کی جناب میں ہے نہ کسی اور عدالت میں اور با ایں ہمہ نوع انسان کی ہمدردی ہمارا حق ہے۔“ پانچویں شرط :- روحانی خزائن جلد 12۔سراج منیر ص 28 پانچویں شرط بیعت کے الفاظ مندرجہ ذیل ہے:۔پنجم یہ کہ ہر حال رنج اور راحت اور عسر اور کیسر اور نعمت اور بلاء میں خدا تعالیٰ کے ساتھ وفاداری کرے گا اور بہر حالت راضی بقضاء ہوگا اور ہر ایک ذلت اور دُکھ کے قبول کرنے کے لئے اس کی راہ میں طیار رہے گا اور کسی مصیبت کے وارد ہونے پر اس سے منہ نہیں پھیرے گا بلکہ آگے قدم بڑھائے گا۔حقیقی ایمان یہی ہے کہ اللہ تعالیٰ پھر ایمان لانے کے بعد اس کے راستے میں خواہ کتنی تکلیفیں آئیں بشاشت قلب سے ان کو برداشت کرے اس کا قدم صراط مستقیم سے ادھر ادھر نہ ہو۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ اور صحابیات نے ایمان لانے کے بعد راہ خدا میں تکلیفیں بھی برداشت کیں۔سختیاں بھی سہیں۔تپتی ہوئی ریت پر لٹایا گیا۔تالوں میں دھوئیں دئے گئے۔گلے میں رسی ڈال کر گھسیٹا گیا۔سینوں پر کو دا گیا۔عورتوں کی شرم گاہوں میں نیزے مار کر ہلاک کیا گیا۔مگر ان کے ایمان میں ذرہ بھر فرق نہ آیا۔قربانیاں دینے والے مرد بھی تھے، عورتیں بھی آزاد بھی اور غلام بھی لیکن اللہ تعالیٰ کی راہ میں انہوں نے ہر ذلت اور دُکھ کو قبول کیا اور ان کے قدم آگے ہی بڑھتے گئے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے زمانہ میں صاحبزادہ عبد اللطیف صاحب کو سنگسار کیا گیا۔آخر وقت تک آپ سے مطالبہ کیا جاتا رہا کہ اب بھی اپنے عقائد کی تبدیلی کا علان کر دیں ہم چھوڑ دیں گے لیکن انہوں نے اس زمانہ میں اپنے عمل سے ثابت کر دیا کہ صحابہ سے ملا جب مجھ کو پایا کے مطابق حضرت مسیح موعود علیہ السلام پر ایمان لانے والے بھی ویسی ہی قربانیوں کا نمونہ پیش کر سکتے