خطابات مریم (جلد اوّل) — Page 336
336 بچوں کو نماز کا عادی نہیں بنائیں گی اور وقت پر نماز پڑھنے کی عادت نہیں ڈالیں گی تو کبھی بھی وہ نمازی نہیں بنیں گے صبح کی نماز کا وقت ہوتا ہے ماں سوچتی ہے بچہ تھوڑا سا اور سولے ماں کا یہ سلوک اپنے بچہ سے اس کے لئے محبت نہیں دشمنی ہے اسی کی طرف یہ آیت اشارہ کرتی ہے کہ قُوا أَنْفُسَكُمْ وَاَهْلِيكُمْ نَارًا (التحريم: 7) اے لوگو! اپنے گھر والوں اور اپنے تئیں آگے سے بچاؤ یعنی گھر کی ذمہ دار ہستی پر اپنی اولاد کی تربیت فرض ہے اور اس ضمن میں سب سے پہلا حکم نماز کا ہے۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں:۔اگر تم میں سے کسی کے دروازہ پر کوئی نہر ہو جس میں وہ ہر روز پانچ مرتبہ نہا تا ہو تو کیا تم کہہ سکتے ہو کہ یہ نہانا اس کے میل کو باقی رکھے گا۔صحابہ نے عرض کی یہ اس کے میل کو باقی نہ رکھے گا۔آپ نے فرمایا پانچوں نمازوں کی یہی مثال ہے اور ان کے ذریعہ سے گناہ مٹ جاتے ہیں۔“ نماز تہجد :۔مسلم کتاب المساجد ومواضع الصلوة دوسرا حکم اس شرط میں بیعت میں حتی الوسع تہجد کی نماز کی ادائیگی کا ہے۔وتہجد کی نماز فرض نہیں لیکن اللہ تعالیٰ کا قرب نوافل کے ذریعہ سے ہی انسان حاصل کر سکتا ہے۔اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو نماز تہجد کا ارشادان آیات میں فرمایا ہے:۔يَا أَيُّهَا الْمُزَّمِّلُ۔قُمِ اللَّيْلَ إِلَّا قَلِيلا نِصْفَةٌ أَوِ انْقُصُ مِنْهُ قَلِيلًا أَوْ زِدْ عَلَيْهِ وَرَتِّلِ الْقُرْآنَ تَرْتِيلًا إِنَّا سَنُلْقِي عَلَيْكَ قَوْلاً ثَقِيلاً۔إِنَّ نَاشِئَةَ اللَّيْلِ هِيَ أَشَدُّ وطلًّا وَأَقْوَمُ قِيلاً (المزّمّل : 2 تا 7) ترجمہ: اے چادر میں لیٹے ہوئے راتوں کو اُٹھ اُٹھ کر عبادت کر جس سے ہماری مراد یہ ہے کہ رات کا اکثر حصہ عبادت میں گزارا کر یعنی اس کا نصف یا نصف سے کچھ کم کر دے یا اس پر کچھ اور بڑھا دے اور قرآن کو خوش الحانی سے پڑھا کر ہم تجھ پر ایک ایسا کلام اتارنے والے ہیں جو بڑا بوجھل ہے۔رات کا اٹھنا نفس کو پیروں کے نیچے مسلنے میں سب سے کامیاب نسخہ ہے اور رات کے جاگنے والوں کو بیچ کی بھی عادت پڑ جاتی ہے۔ان آیات سے معلوم ہوتا ہے کہ انسانی نفس کی اصلاح کے لئے نماز تہجد سے بڑھ کر کوئی چیز نہیں۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ ہمارا پروردگار بزرگ و برتر ہر رات آسمان دنیا پر نزول فرماتا