خطابات مریم (جلد اوّل)

by Other Authors

Page 313 of 801

خطابات مریم (جلد اوّل) — Page 313

313 اختتامی خطاب صدر لجنہ مرکز یہ جلسہ سالانہ 1964ء اللہ تعالیٰ قرآن مجید میں فرماتا ہے وَمَا خَلَقْتُ الْجِنَّ وَالْإِنسَ إِلَّا لِيَعْبُدُونَ (الزريت: 57) یعنی انسان کو پیدا کرنے کی غرض یہ ہے کہ وہ اس کا سچا عبد بنے اور قرب الہی حاصل کرے انسان میں مرد بھی شامل ہے اور عورت بھی اس لئے شریعت کے جتنے بنیادی احکام ہیں ان کا بجالانا مردوں اور عورتوں کے لئے یکساں ضروری ہے احمدی عورتوں پر حضرت خلیفتہ اسیح الثانی کا ایک خاص احسان ہے۔حضرت خلیفہ امسیح الثانی نے مسند خلافت پر متمکن ہوکر جہاں جماعت احمدیہ پر اور ان گنت احسانات کئے وہاں ایک بہت بڑا احسان یہ بھی کیا کہ عورتوں کی توجہ ترقی کی طرف مبذول کروائی۔عورتوں کو منظم کیا۔ان میں تعلیم کو رائج کیا۔ان کی تربیت کی اور ان کے حقوق ان کو دلوائے اور انہیں یہ احساس دلایا کہ ان کی ترقی کے بغیر جماعت ترقی نہیں کر سکتی۔لجنہ کے قیام کے وقت حضور نے فرمایا جو اس بوجھ کو اُٹھانے کے لئے تیار ہوں وہ آگے آئیں اور اس میں شامل ہوں۔ابتداء میں صرف 14 خواتین نے شمولیت اختیار کی لیکن آہستہ آہستہ ان کی تعداد میں اضافہ ہوتا چلا گیا اور حضور کی راہنمائی میں مستورات نے قومی زندگی کا آغاز کر دیا۔حضور نے عورتوں میں اسلام کے لئے محبت اور قربانی کا جذبہ پیدا کرنے کے لئے مختلف کام ان کے سپر دفرمائے۔مختلف تحریکوں میں حصہ لینے کے لئے ابھارا۔سب سے پہلے مسجد برلن کی تحریک جماعت کی مستورات کے سامنے پیش کی کہ ایک مسجد صرف انہیں کے چندہ سے مرکز تثلیث میں تعمیر ہو۔عورتوں نے بھی اپنے امام کی آواز پر لبیک کہتے ہوئے ایسی شاندار قربانی کا مظاہرہ کیا جس کی مثال اور کہیں ملنی مشکل ہے۔بعد میں وہاں ملکی سکہ کے حصول کی وقت کی وجہ سے مسجد تعمیر نہ ہو سکی اور حضور نے یہ فیصلہ فرمایا کہ برلن کی بجائے لنڈن میں مسجد تعمیر ہو۔اس کے بعد ہیگ میں بھی عورتوں ہی کے چندے سے مسجد تعمیر کی گئی۔الغرض ہر لحاظ سے ایک چومکھی لڑائی آپ نے عورتوں کے حقوق کے تحفظ، ان کی عزت کے قیام اور ان کو دنیا کی مستورات کی صف اول میں لانے کے لئے لڑی ہے۔آپ کے پچاس سالہ دورِ خلافت میں ان تقاریر کو جو آپ نے عورتوں کے جلسوں میں کیں مطالعہ کریں تو ایک عجیب رنگ نظر آتا ہے کبھی آپ عورتوں کو