خطابات مریم (جلد اوّل) — Page iii
بسم الله الرحمن الرحيم حضرت سیدہ چھوٹی آپا کی تقاریر وتحریرات کا مجموعہ گزشتہ کئی سال سے تیاری کے مراحل میں تھا۔عجب حسن اتفاق ہے کہ خلافت احمد یہ جو بلی کے مبارک سال میں اس کی طباعت ممکن ہو سکی ہے۔آپ سیدہ کو خلافت احمدیہ کے ادب واحترم اور اطاعت میں بے حد بلند مقام حاصل تھا اور خلافت سے تو گویا عشق تھا۔بہت چھوٹی عمر میں آپ حضرت مصلح موعود کے عقد میں آئیں اور زندگی ایک قرینے سے گزرنے لگی۔اپنی شادی کے متعلق آپ خود تحریر فرماتی ہیں عموماً شادیاں ہوتی ہیں دلہا دلہن ملتے ہیں تو سوائے عشق و محبت کی باتوں کے اور کچھ نہیں ہوتا لیکن مجھے یاد ہے کہ میری شادی کی پہلی رات بے شک عشق و محبت کی باتیں بھی ہوئیں مگر زیادہ تر عشق الہی کی باتیں تھیں آپ کی باتوں کا لب لباب یہ تھا اور مجھ سے ایک طرح یہ عہد لیا جار ہا تھا کہ میں دعاؤں اور ذکر الہی کی عادت ڈالوں دین کی خدمت کروں اور حضرت خلیفہ اسیح کی عظیم ذمہ داریوں میں آپ کا ہاتھ بٹاؤں بار بار آپ نے اس کا اظہار فرمایا کہ میں نے تم سے شادی اسی غرض سے طے کی ہے اور میں خود بھی اپنے والد کے گھر سے یہی جذبہ لے کر آئی۔شادی کے بعد حضور نے میری تعلیم کا سلسلہ جاری رکھا اور بی اے کے بعد دینی تعلیم کا سلسلہ شروع ہوا اور قرآن کریم کا کچھ حصہ سبقاً پڑھنا نوٹس لینے کی عادت بھی آپ ہی نے مجھے ڈالی جو بعد میں حضور ملاحظہ فرمایا کرتے تھے اور فرمایا کرتے تھے ایک ایک لفظ لکھنا ہے بعد میں دیکھوں گا آہستہ آہستہ اتنا تیز لکھنے کی عادت ہوگئی کہ حضور کے جلسہ کی تقریر بھی نوٹ کر لیتی تھی۔1947ء کے بعد تو تقریباً ہر خط مضمون اور تقریر کے نوٹ مجھ سے ہی املاء کرواتے تفسیر