خطابات مریم (جلد اوّل) — Page 268
268 چاہتے ہو کہ خدا تعالیٰ تم سے راضی ہو جائے اس نے کہا ہاں یا رسول اللہ ! آپ ﷺ نے فرمایا پھر واپس جاؤ اور اپنے والدین کی خدمت کرو۔الله غرض آپ ﷺ کا وجود عزیزوں رشتہ داروں کے لئے رحمت کا باعث تھا۔اور آپ ﷺ کی اس تعلیم کی وجہ سے جو آپ ﷺ نے امت محمدیہ کو دی کسی قوم میں اپنے عزیزوں رشتہ داروں اور والدین کا اتنا خیال نہیں رہا جتنا مسلمانوں میں انگریزوں میں اولاد جوان ہو جاتی ہے تو والدین اس کے ذمہ دار نہیں رہتے اور نہ ہی بچے اپنے بوڑھے ماں باپ کا خیال رکھتے ہیں یورپ اور انگلستان میں ایک بوڑھے انسان کو اپنے بڑھاپے کے زمانہ کی فکر رہتی ہے یا تو وہ خود ہی پس انداز کر کے اپنی ضعیفی کا سامان کرتا ہے یا پھر گورنمنٹ اس کا خیال کرتی ہے لیکن آنحضرت ﷺ فداہ روحی نے بوڑھے ماں اور باپ کی خدمت کی بہت ہی تاکید فرمائی ہے۔ماں کو اتنا بڑا درجہ دیا ہے کہ فرمایا ”ماں کے قدموں کے نیچے جنت ہے“ اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ وَبَارِكْ وَسَلَّمْ اولاد کے لئے رحمت:۔صرف اولا د کو ہی نبی کریم ﷺ نے ماں باپ کے ساتھ حسن سلوک کی تاکید نہیں فرمائی بلکہ ماں باپ کو بھی اولاد کی عزت ان کی اعلیٰ تربیت اور تعلیم کی تلقین فرمائی ہے۔جیسا کہ فرماتے ہیں:۔اَكْرِمُو اَوْلَادَكُمْ (ابن ماجه کتاب الادب) اسی طرح آپ ﷺ نے فرمایا:۔كُلُّكُمْ رَاعٍ وَكُلُّكُمْ مَسْئُولٌ عَنْ رَّعِيَّتِهِ (بخاری کتاب الجمعه) تم میں سے ہر شخص چرواہے کی حیثیت رکھتا ہے جس سے اس کے ریوڑ کے متعلق قیامت کے دن سوال ہوگا۔“ اسی طرح آپ ﷺ نے ایک موقع پر فرمایا: جس کو خدا لڑکیاں دے اور وہ ان کے ساتھ اچھا سلوک کرے تو یہ لڑکیاں اس شخص کے لئے دوزخ کی آگ سے پردہ اور رکاوٹ ہو جائیں گی۔ایک اور حدیث میں آتا ہے کہ آپ ﷺ نے فرمایا جس نے دولڑکیوں کی پرورش کی وہ اور میں قیامت میں یوں ہوں گے۔پھر آپ نے اپنی انگلیاں ملائیں۔یعنی ایسا شخص میرے ساتھ جنت میں ہوگا۔