خطابات مریم (جلد اوّل)

by Other Authors

Page 267 of 801

خطابات مریم (جلد اوّل) — Page 267

267 وَقَضَى رَبُّكَ أَلَّا تَعْبُدُوا إِلَّا إِيَّاهُ وَبِالْوَالِدَيْنِ إِحْسَانًا۔إِمَّا يَبْلُغَنَّ عِندَكَ الْكِبَرَ اَحَدُهُمَا أَوْ كِلَاهُمَا فَلَا تَقُل لَّهُمَا أُقٍ وَّلَا تَنْهَرُهُمَا وَقُلْ لَّهُمَا قَوْلًا كَرِيمًا 0 واخْفِضْ لَهُمَا جَنَاحَ الذُّلِّ مِنَ الرَّحْمَةِ وَقُلْ رَبِّ ارْحَمْهُمَا كَمَا رَبَّيَانِي صَغِيرًا - سورۃ بنی اسرآئیل: 24 ،25 ترجمہ: تیرے رب نے اس بات کی تاکید فرمائی ہے کہ تم اس کے سوا کسی کی عبادت نہ کرو نیز ماں باپ سے اچھا سلوک کرو اور اگر ان میں سے کسی ایک یا ان دونوں پر تیری زندگی میں بڑھاپا آ جائے تو ان کی کسی بات پر ناپسندیدگی کا اظہار کرتے ہوئے ان سے اف تک نہ کر اور نہ انہیں جھڑک اور ہمیشہ ان سے نرمی سے بات کر اور رحم کے جذبات کے ماتحت ان کے سامنے عاجزانہ رویہ اختیار کر اور ان کے لئے دعا کیا کراے میرے رب ان پر مہربانی فرما کیونکہ انہوں نے بچپن کی حالت میں میری پرورش کی تھی۔مقداد بن معدی کرب سے روایت ہے کہ انہوں نے آنحضرت ﷺ کو ارشاد فرماتے ہوئے سنا کہ اے لوگو اللہ تعالیٰ تم کو اپنی ماؤں کے ساتھ اچھا سلوک کرنے کی تاکید کرتا ہے اور اس کے بعد وہ تمہیں اپنے باپوں کے ساتھ اچھا سلوک کرنے کا حکم دیتا ہے اور پھر درجہ بدرجہ ہر رشتہ دار سے حسن سلوک کی وصیت فرماتا ہے۔اسی طرح ایک اور حدیث میں آتا ہے کہ ایک شخص نبی کریم ﷺ کے پاس آیا اور آپ ﷺ سے پوچھا یا رسول اللہ ﷺ میرے نیک سلوک کا سب سے زیادہ مستحق کون ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا " تیری والدہ “ اس نے دریافت کیا پھر اس کے بعد کون زیادہ مستحق ہے؟ آپ ﷺ نے پھر فرمایا " تیری والدہ “ اس نے تیسری بار آپ ﷺ سے یہی سوال کیا پھر آپ ﷺ نے یہی فرمایا ” تیری والدہ “ پھر اس نے چوتھی مرتبہ یہی سوال کیا تو آپ ﷺ نے فرمایا ' والدہ کے بعد تمہارا والد اس کا سب سے زیادہ مستحق ہے۔مسلم کتاب البر وصلة ) اسی طرح ایک اور حدیث میں آتا ہے کہ ایک شخص آنحضرت ﷺ کے پاس آیا اور کہا کہ میں آپ سے ہجرت کی بیعت کرتا ہوں میں آپ ﷺ سے جہاد کی بیعت کرتا ہوں۔آپ ﷺ نے فرمایا کیا تمہارے ماں باپ زندہ ہیں؟ اس نے کہا ہاں ! دونوں زندہ ہیں۔آپ ﷺ نے اس سے پوچھا کیا تم "