خطابات مریم (جلد اوّل) — Page 242
242 خَلَقْتُ الافلاک سے ظاہر ہوتا ہے خدا تعالیٰ کے بے انتہا پیارے تھے مگر آخر انسان تھے آپ پر بھی وقت آیا جو ہر ذی روح پر آتا ہے۔اللہ تعالیٰ نے الْيَوْمَ أَكْمَلْتُ لَكُمْ دِينَكُمْ وَأَتْمَمْتُ عَلَيْكُمْ نِعْمَتِی (المائده (4) نازل فرما کر بتا دیا کہ چونکہ اب دین مکمل ہو گیا ہے اس لئے اس دنیا سے اب جانے کا وقت آ گیا ہے۔آپ ﷺ نے حجتہ الوداع کے موقع پر اپنا آخری خطبہ جو دیا اس میں عورتوں سے حسن سلوک کی طرف قوم کو خاص توجہ دلائی۔ہر انسان کی عزت جان اور اس کے مال کو مقدس قرار دیا اور کسی کی عزت جان اور مال پر حملہ کرنے سے منع فرمایا۔آپ ﷺ کے اس خطبہ کے الفاظ پڑھنے سے ظاہر ہوتا ہے کہ آپ ﷺ کو بنی نوع انسان کی بہتری کس قدر مد نظر تھی۔آپ ﷺ مرض الموت میں گرفتار تھے۔موت کی تکلیف آپ ﷺ پر طاری تھی۔آپ ﷺ گھبراہٹ سے بیٹھے بیٹھے کبھی اس پہلو پر جھکتے کبھی اس پہلو پر اور فرماتے خدا بُرا کرے یہود اور نصاریٰ کا کہ انہوں نے اپنے نبیوں کے مرنے کے بعد ان کی قبروں کو مسجدیں بنالیا۔یہ آپ ﷺ کی آخری نصیحت تھی اپنی امت کے لئے کہ گوانبیاء میں میرا سب سے بڑا درجہ ہے لیکن بہر حال بندہ ہوں۔میرے بندہ ہونے کو نہ بھول جانا خدا تعالیٰ کا مقام خدا کو ہی دینا۔گویا موت کے وقت بھی خیال غالب تھا کہ اللہ تعالیٰ کی توحید قائم رہے اور اس کا جلال ظاہر ہو۔سیرت نبوی سے ہمیں کیا سبق ملتا ہے آنحضرت ﷺ کی زندگی اور آپ ﷺ کے صحابہ کرام کی زندگی ہمیں کیا سبق دیتی ہے وہ کیا چیز تھی جس نے ان بادیہ نشینوں کو خاک مذلت سے اٹھایا اور دنیا کی سب سے بڑی طاقتوں کو ان کے سامنے جھکا دیا۔ان کی طاقت ہتھیار ، دولت اور کثرت افواج ان کا مقابلہ نہ کر سکیں۔وہ صرف ایک ہی چیز تھی یعنی قربانی۔جب انسان ایک عزم صمیم کر لیتا ہے کہ جو کچھ میرا ہے وہ میرا نہیں بلکہ اللہ تعالیٰ کی عطا ہے جو میں سب اس کے راستہ میں قربان کر دوں گا۔تو پھر خدا تعالیٰ بھی اسے نوازتا ہے اور دائمی زندگی عطا فرماتا ہے۔اسی طرح لَنْ تَنَالُوا الْبِرَّ حَتَّى تُنْفِقُوا مِمَّا تُحِبُّونَ (ال عمران: 93) میں اشارہ ہے کہ خدا کی خاطر اپنی ہر محبوب چیز کی قربانی دی جائے۔اسلام کی ترقی کا راز بھی اسی قربانی کی روح میں ہے عرب کی سرزمین کا انقلاب اسی قربانی کی روح کا رہین منت تھا اور اب بھی اسلام کی فتح کا دن اسی قربانی کے نتیجہ میں آسکتا ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں۔اسلام کا زندہ ہونا ہم سے ایک فدیہ مانگتا ہے وہ