خطابات مریم (جلد اوّل) — Page 241
241 آپ اپنی خودی سے اس طرح جدا ہو گئے کہ میم درمیان سے گر گیا۔(۲) آپ ﷺ اپنے محبوب میں اس طرح محو ہو گئے کہ کمال اتحاد کی وجہ سے آپ ﷺ کا وجود بالکل رب رحیم کی صورت میں بن گیا۔(۳) محبوب حقیقی کی خوشبو آپ ﷺ کے پاک چہرہ سے آرہی ہے اور آپ ﷺ کی خدائی صفات والی ذات خدائے قدیم کی مظہر ہے۔خدائے رب العالمین کے رنگ میں رنگین ہو کر ساری دنیا کے لئے رحمت کا بادل بن کر ایسی ربوبیت فرمائی کے عرب کے وہ بادیہ نشین جو نہ تہذیب کے واقف تھے نہ ان کا کوئی تمدن تھا۔بتوں کو پوجتے تھے۔عورت کا احترام تک کرنا نہ جانتے تھے۔اخلاق سے دور کا واسطہ بھی نہ تھا ان کو نہ صرف با اخلاق بلکہ باخدا انسان بنا دیا۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں صَادَفْتَهُمْ قَوْمًا كَرَوْثٍ ذِلَّةٌ فَجَعَلْتَهُمْ كَسَبِيكَةِ العِقْيانِ آنحضرت ﷺ کے ہزاروں لاکھوں معجزے ہیں لیکن آپ ﷺ کا یہ معجزہ بڑا ہی زبر دست ہے کہ آپ ﷺ نے جو دعویٰ کیا تھا وہ ثابت کر دکھایا جیسے ایک دعوی کرے کہ میں حاذق طبیب ہوں اور پھر اس دعویٰ کو مریضوں کی صحت اور تندرست ہونے سے ثابت کر دکھائے۔آنحضرت ﷺ نے جو کچھ اپنے دعوی کے موافق کر دکھایا اس کی تو کوئی نظیر ہی نہیں ملتی۔عرب جیسی جاہل اور خونی قوم جو کبھی کسی کی بات کو مان ہی نہیں سکتی تھی۔کیا کوئی اس قوم کی نسبت خیال کر سکتا تھا کہ یہ قوم با ہم متحد ہوگی اور خدا تعالیٰ اسے ایسا قومی تعلق پیدا کریں گے کہ باوجود یکہ یہ فرعون سیرت ہیں لیکن اس کی اطاعت میں ایسے محو اور فنا ہوں گے کہ جان عزیز کو بھی اس کی راہ میں دے دیں گے۔غور کرو کیا یہ آسان امر تھا آنحضرت ﷺ کی یہ عظیم الشان کامیابی ہے ایک ایسی قوم میں ایسی محبت الہی کا پیدا کر دینا کہ وہ مرنے کو تیار ہو جائیں خود آپ کی اعلیٰ درجہ کی قوت قدسی کو ظاہر کرتا ہے۔الحکم 17 اگست 1905ء - ملفوظات جلد چہارم صفحہ 334 حاشیہ ﴾ حجتہ الوداع کے موقعہ پر آخری خطبہ اللہ تعالیٰ کے سواد نیا کا ہر شخص اور ہر چیز فانی ہے۔محمد رسول اللہ ﷺ کا مقام لَوْلَاكَ لَمَا