خطابات مریم (جلد اوّل) — Page 237
237 آپ ﷺ کی مخالفت پر کمر بستہ ہو گئے۔کوئی تکلیف نہ تھی جو آپ ﷺ کودی نہ گئی ہو۔آپ ﷺ کا بائیکاٹ کیا گیا۔آپ ﷺ کے راستوں میں کانٹے بچھائے گئے۔آپ ﷺ کی جان پر حملہ کیا گیا۔آپ ﷺ پر پتھر برسائے گئے۔مگر آپ ﷺ کی شفقت دیکھئے۔آپ ﷺ ان ساری تکلیفوں کو برداشت کرنے کے بعد بھی ان کے لئے یہی دعا کرتے ہیں اللّهُمَّ اهْدِ قَوْمِي فَإِنَّهُمْ لَا يَعْلَمُونَ۔(در منثور جلد 2 صفحہ 298) میری قوم نادان ہے بے وقوف ہے میرے مولا تو اس کو ہدایت کا راستہ دکھا۔حضرت خدیجہ کی گواہی - حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا نے جو خود بڑی مالدار تھیں آپ ﷺ سے شادی آپ ﷺ کا تقویٰ اور آپ ﷺ کی نیکی اور دیانت کے معاملہ کو دیکھ کر کی تھی۔آپ ﷺ سے شادی کے بعد حضرت خدیجہ نے محسوس کیا کہ آپ ﷺ کا حساس دل ایسی زندگی میں کوئی خاص لطف محسوس نہ کرے گا کہ آپکی بیوی تو مالدار ہو اور آپ ﷺ اس کے محتاج ہوں۔آپ نے رسول اللہ ﷺ سے عرض کیا کہ میں اپنا سارا مال اور اپنے غلام آپ ﷺ کی خدمت میں پیش کرنا چاہتی ہوں۔آپ ﷺ نے فرمایا خدیجہ کیا سی۔آپ نے پھر دوبارہ عرض کی ہاں واقعی پیش کر رہی ہوں۔آپ ﷺ نے فرمایا کہ پھر میرا پہلا کام یہ ہوگا کہ غلاموں کو آزاد کر دوں۔چنانچہ آپ ﷺ نے حضرت خدیجہ کے تمام غلاموں کو بلایا اور فرمایا تم سب آج سے آزاد ہو۔اسی طرح مال کا اکثر حصہ غرباء میں تقسیم فرما دیا۔مخلوق خدا کی خدمت اور ان سے ہمدردی کے متعلق جو بے لاگ گواہی آپ ﷺ کی ہم دم و دم ساز حضرت خدیجہ نے دی ہے اس سے بڑھ کر شاندار گواہی اور کیا ہوسکتی ہے۔انسان کی کمزوریاں دوسروں سے تو پوشیدہ رہ سکتی ہیں۔لیکن انسان کی بیوی چوبیس گھنٹے کی ساتھی ہوتی ہے اس سے کسی کمزوری کا پوشیدہ رہنا ناممکن ہے۔جب آپ ﷺ پر پہلی دفعہ وحی نازل ہوئی تو آپ ﷺ کے دل میں خوف پیدا ہوا کہ اتنی عظیم الشان ذمہ داری اللہ تعالیٰ کی طرف سے میرے سپرد کی جارہی ہے معلوم نہیں میں پوری طرح اسے اٹھا سکوں یا نہیں۔آپ ﷺ گھر پہنچے۔آپ کا دل دھڑک رہا تھا۔حضرت خدیجہ کے پاس آکر آپ ے نے فرمایا مجھے کپڑا اوڑھا دو۔جب طبیعت کی گھبراہٹ میں کمی آئی تو آپ ﷺ نے حضرت خدیجہ کو سارا واقعہ سنایا۔واقعہ سن کر بے ساختہ حضرت خدیجہ کے منہ سے یہ الفاظ نکلے۔كَلَّا وَاللَّهِ لَا يُخْزِيْكَ اللهُ أَبَدًا إِنَّكَ لَتَصِلُ الرَّحِمَ وَتَحْمِلُ الْكَلَّ