خطابات مریم (جلد اوّل) — Page 215
215 زمین پر کہیں نہیں مل سکتی۔تا ہم ہمیں ہمیشہ یادرکھنا چاہئے کہ مالی ترقی یہ نہیں کہ جتنی تعداد عورتوں کی ہو اس کے مطابق چندہ ہو بلکہ مالی ترقی یہ ہے کہ عورتوں کی تعداد کم ہو اور چندہ زیادہ ہو۔اگر ممبرات زیادہ ہوں اور مالی قربانی کم ہو تو اس کوترقی نہیں کہا جاسکتا۔تیسری چیز تنظیم ہے بے شک دلوں میں امنگ ہو۔خدمت دین کا جذبہ ہو لیکن اگر تنظیم مکمل نہیں اور تم اس طرح نہیں جس طرح ہار کے موتی ہوتے ہیں تو کوئی فائدہ نہیں۔جہاں جہاں ہماری نمائندگان نے دورے کئے ہیں۔جھگڑے بدظنی اور ایک دوسرے سے شکایت کا شکوہ کرتی ہیں۔تمام لجنات میں جھگڑے کیوں ہیں۔ہم نے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو مانا اور خلیفہ وقت کے ہاتھ پر بیعت کی کہ ہم سب متحد ہو کر احمدیت کی ترقی میں حصہ لیں گی۔لیکن چھوٹی چھوٹی باتوں پر جھگڑے سے کوئی قوم بھی ترقی کی راہ پر گامزن نہیں ہو سکتی۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام سے اللہ تعالیٰ نے ترقی کا وعدہ کیا۔خدا تعالیٰ کے وعدے تو بہر حال پورے ہوتے ہیں۔کہیں ایسا نہ ہو کہ ہماری کوتاہیوں اور کمزوریوں کی وجہ سے ان وعدوں کے پورا ہونے میں دیر لگے۔مجھے ایک نمائندہ آج ہی ملی ہیں۔انہوں نے بتایا ہے کہ ہمارے شہر میں ابھی تک تنظیم قائم نہیں ہو سکی۔کیونکہ وہاں ممبرات میں قومیت پر جھگڑے ہوتے ہیں۔نہایت افسوس کی بات ہے کہ احمدیت نے بھی اس زنگ کو دور نہ کیا اور ابھی تک ذاتوں اور قومیت کو احمدیت پر ترجیح دیتی ہیں۔ہماری محبت اور عداوت محض خدا کے لئے ہونی چاہئے۔جو الْحُبُّ لِله وَالْبَغْضُ لِلهِ (سنن الدارمی کتاب السنتہ ) سے واضح ہے۔دنیا آج اس بات کی معترف ہے کہ اگر کوئی جماعت فعال ہے تو وہ جماعت احمد یہ ہے۔اگر کوئی جماعت صحیح رنگ میں اسلام کی خدمت کر رہی ہے تو وہ یہی جماعت ہے۔پس اگر جماعت کے جھگڑے دینی ترقی میں رکاوٹ ڈالیں تو بڑے افسوس کا مقام ہے۔عورت کا اثر بہت ہوتا ہے۔وہ مرد پر بھی اور بچوں پر بھی اثر انداز ہوتی ہے۔اگر اب وہ رنجشیں دور نہ کریں گی تو یہ رنجشیں نسلوں میں جائیں گی۔رپورٹوں میں لکھا ہوتا ہے کہ ہم نے فلاں کو نصیحت کی۔فلاں کو ہدایات دیں۔نصیحت کرنا اچھی بات ہے مگر دیکھنا اس بات کو ہے کہ اس کا کیا نتیجہ نکلا۔اگر آپ کے سمجھانے سے وہ باتیں دور ہو گئیں تو آپ مبارکباد کی مستحق ہیں۔اور اگر وہ باتیں جن کے دور کرنے کے لئے آپ نے نصیحت کی دور نہیں ہوئیں تو یہ بے نتیجہ کام ہوگا۔آئندہ ان امور اور ان معیاروں کو مد نظر رکھتے ہوئے رپورٹ لکھا کریں۔کراچی کی لجنہ کی رپورٹ