خطابات مریم (جلد اوّل) — Page 214
214 افتتاحی خطاب سالانہ اجتماع لجنہ اماءاللہ مرکزیہ 1960ء نمائندگان سے خطاب کرتے ہوئے فرمایا میں باہر سے آنے والی بہنوں کو اھلا و سهلا و مرحبا کہتی ہوں۔اللہ تعالیٰ ان کا آنا مبارک کرے۔اور وہ اپنے اندر ایک روحانی تبدیلی پیدا کریں۔تا کہ جب وہ یہاں سے واپس جائیں تو یہی تبدیلی ان بہنوں میں جا کر پیدا کریں جو یہاں نہیں آسکیں۔جو نمائندگان یہاں آتی ہیں ان پر بڑی ذمہ داری عائد ہوتی ہے اجتماع اس غرض سے رکھا گیا ہے کہ سال میں تین دن یہاں اکٹھے ہو کر اور سب مل کر دینی علوم سیکھیں اور جو نہیں آسکیں ان کو جا کر سکھائیں۔ہمیں چاہئے کہ ہم تین دنوں کو ضائع نہ کریں جو کچھ آپ کو بتایا جائے اسے سنیں۔جو کچھ ہدایات دی جائیں ان کو نوٹ کریں اور پھر سارے سال کے کام کو ان ہدایات کے مطابق چلائیں۔ہر سال اپنے کاموں کا جائزہ لیں۔دوسری لجنات کے ساتھ اپنے کام کا موازنہ کریں تا کہ آپ کو اپنے اور ان کے کاموں میں فرق معلوم ہو۔بہنیں ایک دوسرے سے لجنہ کو ترقی دینے کے طریقوں پر تبادلہ خیالات کریں اور اپنا وقت ضائع کرنے کی بجائے اس طرح گزاریں کہ جب واپس جائیں تو آپ کے دلوں میں کام کرنے کے متعلق نیا عزم اور نئی امنگ پیدا ہو۔یہاں سے قربانی کی روح اور کام کرنے کا عزم لے کر جاویں۔اور اس روح اور امنگ اور جذبہ کو اپنی دوسری ممبرات میں بھی پیدا کریں۔تا کہ تمام مرات متحد ہوکر لجنہ کی ترقی جماعت کی ترقی اور اسلام کی ترقی کے لئے کام کرسکیں۔میں نے گزشتہ سال کام کے چار معیار لجنات کے سامنے رکھے تھے مگر مجھے افسوس ہے کہ لجنات میں سے سوائے لجنہ کراچی کے کسی نے بھی ان معیاروں کے مطابق رپورٹ تیار نہیں کی۔سب سے پہلا معیار جو کسی مجلس کی ترقی کو ظاہر کرتا ہے وہ اس کی تعداد ہے۔اگر جماعت کی تعداد بڑھ رہی ہو تو اس کی ترقی ہورہی ہوتی ہے۔اور اگر تعداد کم ہورہی ہو تو خدا نہ کرے جماعت تنزل کی طرف جارہی ہوتی ہے۔یہ صحیح ہے کہ ہر عورت لجنہ کی ممبر ہوتی ہے مگر وہ اس کی تنظیم میں شامل نہیں ہوتی۔ہر عورت کا تنظیم سے وابستہ ہونا ضروری ہے۔پس اپنی تنظیم کو مکمل کریں کوئی عورت تنظیم سے باہر نہ رہ جائے۔دوسری چیز مالی قربانی ہے۔اس وقت احمدی عورتیں جتنی مالی قربانی کر رہی ہیں اس کی مثال روئے