خطابات مریم (جلد اوّل)

by Other Authors

Page 199 of 801

خطابات مریم (جلد اوّل) — Page 199

199 حضرت سیدہ مریم صدیقہ صاحبہ کی تقریر جلسہ سالانہ 1958ء حضرت سیدہ مریم صدیقہ صاحبہ متفقہ طور پر لجنہ اماءاللہ کی صدر منتخب ہوئیں۔صدر بننے کے بعد سب سے پہلی تقریر جو آپ نے 28 دسمبر کو جلسہ سالانہ کے موقع پر فرمائی وہ درج ذیل کی جاتی ہے۔اس سال جیسا کہ پروگرام سے واضح ہے میں نے اپنی تقریر کا کوئی موضوع مقررنہیں کیا کیونکہ بعض وجوہ کی بناء پر اجتماع نہ ہو سکا۔اور میں نے ارادہ کیا تھا کہ اس سال جلسہ سالانہ کے موقع پر آپ کے سامنے لجنہ کے سارے سال کا پروگرام بیان کروں گی۔تا کہ آپ پر واضح ہو جائے کہ دوران سال لجنہ مرکزیہ نے کیا کام سرانجام دیئے اور کس قسم کے کام کرنے کی ہم آپ سے توقع رکھتے ہیں۔دوران سال کا سب سے المناک حادثہ جو لجنہ اماء اللہ کو پیش آیا وہ حضرت اُتم ناصر کی وفات ہے۔آپ کا وجود علاوہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی بہو حضرت خلیفہ اسیح الثانی کی حرم اول اور لجنہ مرکزیہ کی صدر ہونے کے ایک اور اہمیت بھی رکھتا تھا۔وہ یہ کہ آپ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے زمانہ اور موجودہ نسل کے درمیان ایک کڑی تھیں۔“ حضرت ( اماں جان ) کی وفات کے بعد دو ہستیاں ہمارے لئے خاص حیثیت رکھتی تھیں جنہوں نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو اپنی آنکھوں سے دیکھا۔اور اپنے ہاتھوں سے ان کی خدمت کی اور اپنے کانوں سے ان کی باتوں کو سنا۔ایک اُم ناصر اور دوسری ام داؤد تھیں۔ہم سب جنہوں نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو نہیں دیکھا اس بات کی سخت تڑپ اپنے اندر رکھتی ہیں کہ کاش ہم اس زمانہ میں ہوتیں اور اس مقدس ہستی کو اپنی آنکھوں سے دیکھ کر برکت حاصل کرتیں۔آپ میں سے بہت سی ایسی ہوں گی جنہوں نے (حضرت سیدہ نصرت جہاں صاحبہ المعروف اماں جان صاحبہ ) کو نہیں دیکھا اور ہر ایک آپ میں سے یقینا یہ خواہش اپنے اندر رکھتی ہے کہ کاش ہم وہ زمانہ پالیتیں۔لیکن اب بھی آپ کے لئے اس سعادت کو حاصل کرنے اور اپنی روحانیت کو بڑھانے کا موقع ہے ( رفیقات) بہت تھوڑی تعداد میں رہ گئی ہیں ان سے استفادہ کر لیں اور ان کو اپنے اجلاسوں میں بلائیں اور ذکر حبیب کے عنوان پر چشم دید واقعات سنیں کیونکہ روحانیت پیدا کرنے اور دلوں کو غبار اور زنگ دور کرنے کے لئے صحبت صالحین ضروری چیز ہے۔پس ان کو اپنی مجالس میں بلائیں۔اپنے ہر اجلاس میں یا ہر مہینے ان۔