خطابات مریم (جلد اوّل)

by Other Authors

Page 183 of 801

خطابات مریم (جلد اوّل) — Page 183

183 بیرونی ممالک سے آنیوالی اور وہاں جانیوالی احمدی بہنوں کی خدمت میں لجنہ اماءاللہ مرکزیہ کی طرف سے سپاسنامہ مورخہ یکم مئی بعد نماز عصر نصرت گرلز ہائی سکول میں بیرونی ممالک سے واپس آنے والی بہنوں بیگم چوہدری مشتاق احمد صاحب باجوہ۔بیگم صوفی مطیع الرحمن صاحب اور بیگم نذیر احمد علی صاحب کے استقبال اور تبلیغ کے لئے پاکستان سے باہر جانے والی بہن نصیرہ نزہت صاحبہ کو الوداعی پارٹی دی گئی۔چائے وغیرہ کے بعد حضرت سیدہ ام متین صاحبہ نے ایڈریس پیش کرتے ہوئے کلثوم بیگم صاحبہ (اہلیہ چوہدری مشتاق احمد صاحب باجوہ سابق امام مسجد لنڈن ) آمنہ بیگم صاحبہ (اہلیہ مولوی نذیر احمد علی صاحب مبلغ افریقہ ) اور امۃ الرحیم صاحبہ (اہلیہ صوفی مطیع الرحمن صاحب مبلغ امریکہ) کو مخاطب کرتے ہوئے فرمایا کہ ہم آپ کی کامیاب و کامران مراجعت پر اھلا و سھلا مرحبا کہتی ہیں۔یہ اللہ تعالیٰ کا احسان ہے کہ اس نے آپ کے شوہروں کو بیرونی ممالک میں تبلیغ اسلام کے لئے منتخب فرمایا۔اور پھر ان کے ساتھ آپ کو بھی باہر جانے کا موقع ملا۔ورنہ ایں سعادت بزور بازو نیست تا نه بخشدہ خدائے بخشنده اب جب آپ باہر سے ہو آئی ہیں اور آپ کو مفید تجربات حاصل ہو چکے ہیں۔ہم امید کرتی ہیں کہ آپ کا وجود لجنہ اماءاللہ مرکزیہ کے لئے مفید ثابت ہوگا اور آپ لجنہ کی تنظیم میں پوری دلچسپی سے حصہ لیں گی۔میرے کہنے کا یہ مطلب نہیں ہے کہ جن ممالک میں آپ گئیں وہاں کے رہنے والے عوام ترقی پر ہیں اور ہم ان سے پیچھے ہیں۔ہرگز نہیں! ہمیں تو اللہ تعالیٰ نے محسنتُمْ خَيْرَ أُمَّةٍ أُخْرِجَتْ لِلنَّاسِ قرار دیا ہے۔وہ لوگ تو لا مذہب ہیں۔دہریت ان پر چھائی ہوئی ہے۔گاتے ناچتے اور شرابیں پیتے ہیں،مست رہتے ہیں۔دنیا کمانے میں لگے ہوئے ہیں، آخرت کی کوئی فکر نہیں۔اگر ان میں اخلاقی یا تمدنی خوبیاں پائی جاتی ہیں تو یہ بھی در اصل اسلام سے اخذ کردہ ہیں اور وہ اس وقت ہماری اپنی شامت اعمال کی وجہ سے ہمارے ہاتھ سے جاتی رہی ہیں۔پس خُذْ مَا صَفَا وَدَعْ مَا كَدَرَ کے مطابق جو اچھی ہے ہم ان سے لے