خطابات مریم (جلد اوّل) — Page 164
164 تین سال قبل کی ایک رات تین سال قبل 7 اور 8 نومبر کی درمیانی رات جب ایک پاک روح اس دنیا سے رشتہ توڑ کر اپنے رب کے حضور حاضر ہوئی۔جولوگ اس وقت موجود تھے وہ اس وقت کا نظارہ کبھی بھول نہیں سکتے۔ہر ایک حیران تھا کہ کیا ہو گیا لیکن ہر دل اپنے رب کی رضا پر راضی تھا۔وہ پاک روح جس کو خدا نے اپنی رضامندی کے عطر سے ممسوح کیا تھا جس کا اس دنیا میں آنا ازل سے مقدر تھا جس کے آنے کے خبر نہ صرف حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو ہی دی گئی بلکہ حضرت خاتم النبین کو بھی دی گئی تھی جس کی برکتوں سے قوموں نے زندگی پائی۔وہ اس دنیا میں آیا ایک کمزور بچہ کی شکل میں جس کی صحت خاصی کمزور تھی۔آنکھیں دکھتی رہتی تھیں۔پڑھائی کی طرف خاص توجہ نہ تھی۔سکولوں کے امتحان میں سے شاید کوئی بھی امتحان پاس نہ کر سکا۔دنیا وی نقطہ نگاہ سے کسی کو خیال بھی نہ آسکتا تھا کہ یہ بچہ کوئی بڑی ہستی بنے گا لیکن خدا کا وعدہ تھا کہ وہ جلد جلد بڑھے گا۔ہم اپنی روح اس میں ڈالیں گے۔خدا کے فضل کا سایہ اس کے سر پر ہوگا۔وہ علوم ظاہر وباطنی سے پر کیا جائے گا۔دنیا کی نظر میں یہ سب باتیں انہونی تھیں لیکن عرش پر فرشتے مسکرا رہے تھے کہ اس دنیا کے بندے کتنے بھولے ہیں کہ خدا کی باتوں پر یقین نہیں رکھتے۔ہمیں سال کی عمر ہی کیا ہوتی ہے۔اس چھوٹی سی عمر میں شفیق باپ کا سایہ سر سے اٹھ گیا۔سارے گھر کی ذمہ داری اس نا تو ان وجود پر پڑی لیکن اس بچہ نے جسے دنیا کمزور سمجھ رہی تھی اپنے جانے والے باپ کے سرہانے کھڑے ہو کر اپنے رب سے ایک عہد کیا کہ خواہ ساری دنیا تجھے چھوڑ دے لیکن میں نہیں چھوڑوں گا اور اکیلا ہی ساری دنیا سے نبرد آزما ہوں گا۔اسی کمزور اور نا تو ان انسان کو اللہ تعالیٰ کی مشیت سے چھ سال بعد ایک چھوٹی سے جماعت کی قیادت ملتی ہے۔عمر کم تعلیم نہ ہونے کے برابر ، دوست دشمن ہو جاتے ہیں۔اپنے بیگانے بن جاتے ہیں، مالی لحاظ سے بھی کمزور ، دنیا ہنستی اور قہقہے لگاتی ہے کہ چند دن کی بہار ہے۔یہ سفینہ آج ڈوبا یا کل ڈوبا۔وہ نا توان بچہ جب اپنی جماعت کی پتوار ہاتھ میں سنبھالتا ہے تو ساری دنیا انگشت بدنداں رہ جاتی ہے کہ ہم نے کیا سوچا تھا اور کیا ہو گیا۔قوموں کو للکارا، دشمنوں کو شکست دی۔ہر مشکل پر فتح پائی۔ہر روک دور ہوئی ہمنجھدار میں سے اپنی کشتی کو نکالتا ہوا ساحل تک لے آیا۔خدا کی بات پوری ہوئی۔دنیا کے کونے کونے تک اسلام کا پیغام پہنچایا۔ملک ملک میں جماعتیں قائم ہوئیں۔بھٹکی ہوئی روحوں نے اس کے ذریعہ اپنے