خطابات مریم (جلد اوّل)

by Other Authors

Page 152 of 801

خطابات مریم (جلد اوّل) — Page 152

152 پاگئے ہیں لیکن جو تم میں سے خدائے واحد کی عبادت کرتا تھا اس کو معلوم ہونا چاہئے کہ خدا کا وجود زندہ اور زندگی بخشنے والا ہے اس پر کوئی فتانہیں۔اسلام کا خداوہ خدا نہیں جس کی زندگی کے ثبوت میں صرف ماضی کے واقعات بطور قصہ یا مثالوں کے پیش کئے جائیں وہ اب بھی زندہ ہے اور اپنی زندگی کا ثبوت بار بار دیتارہتا ہے۔جیسا کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں:۔لوگو! سنو کہ زندہ خدا وہ خدا نہیں جس میں ہمیشہ عادت قدرت نما نہیں ( درشین ص: 102) وہ خدا جو آدم کے وقت میں اپنی قدرت نمائی کے ثبوت دیتا تھا جو ابراہیم کے وقت میں اپنی زندگی کا ثبوت دیا کرتا تھا جس کی تجلیاں موسیٰ کے وقت میں ظاہر ہوتی رہیں۔جس نے حضرت عیسی کے وقت میں اپنی زندگی کا ثبوت دیا اور جس کی کامل تجلی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے ذریعہ سے ہوئی وہ اب بھی زندہ ہے وہ اب بھی اپنے بندوں کے ذریعہ اپنی زندگی کا ثبوت دنیا کو بہم پہنچاتا رہتا ہے اس نے آج سے چودہ سو سال پہلے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی زبان سے دنیا کے سامنے یہ اعلان کروا دیا تھا کہ جب ہمارا مہدی ظاہر ہوگا تو اس کی تائید میں دو نشان ظاہر کئے جائیں گے اور وہ نشان چاند اور سورج کے اپنے مقررہ وقتوں میں گرہن کے ذریعہ ظاہر ہوگا جو نہ صرف ایک بار دنیا دیکھے گی بلکہ دو بار یعنی دنیا کے دونوں طرف رہنے والے دیکھیں گے چنانچہ ایسا ہی ہوا اور تاریخ شاہد ہے کہ کس شان کے ساتھ خدا تعالیٰ کے حبیب ﷺ کے منہ سے نکلی ہوئی بات لفظ لفظ پوری ہوئی۔اور خدائی فعل نے بتادیا کہ ہمارا خدا زندہ اور قادر خدا ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی بعثت : اللہ تعالیٰ نے تیرہ سو سال کے بعد جب دنیا کو گمراہی اور ضلالت کے گڑھوں میں گرتے دیکھا تو دنیا کی ہدایت کیلئے پھر اپنے ایک بندہ کو جسے آنحضرت ﷺ کی غلامی پر فخر ہے دنیا کی ہدایت کے لئے کھڑا کیا وہ اکیلا تھا دنیا کی نظروں میں مخالف سمجھتے تھے کہ چند دن کی بات ہے یہ جماعت ختم ہو جائے گی مگر نہیں وہ اکیلا نہیں تھا۔جس کے عشق میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں سخن نزدم مراں از شہر یارے کہ ہستم پروری اُمید وارے مرے سامنے کسی بادشاہ کا ذکر نہ کر کیونکہ میں تو ایک اور دروازہ پر امیدوار پڑا ہوں۔