خطابات مریم (جلد اوّل) — Page 145
ار 145 اسلام ہی زندہ مذہب ہے روحانی تاریکی روحانی سورج ہی سے دور ہو سکتی ہے:۔اللہ تعالیٰ رب العالمین ہے ازل سے اس کا یہ قانون جاری ہے کہ انسان کی جسمانی پرورش اور ترقی کے ساتھ ساتھ اس کی روحانی ترقی اور اس کی تکمیل کے ذرائع بھی بہم پہنچاتا رہتا ہے یہ دونوں سلسلے یعنی روحانی اور جسمانی انسان کی تخلیق کے ساتھ شروع ہوئے اور ہمیشہ جاری رہیں گے یہ ناممکن ہے کہ انسان کی تخلیق کا جسمانی سلسلہ تو جاری رہے اور اس کی روحانیت کے نشو و نما اور اس کی ہدایت کا سلسلہ منقطع ہو جائے۔روزانہ ہم مشاہدہ کرتے ہیں کہ رات کے بعد دن آتا ہے اور سورج تاریکی کو دور کرتا ہے۔اسی طرح روحانی تاریکی بھی بغیر روحانی سورج کے دُور نہیں ہوسکتی۔اور جس طرح ایک انسان آنکھیں رکھتے ہوئے بھی اندھیرے میں نہیں دیکھ سکتا۔اسی طرح عقل رکھنے کے باوجود اپنی روحانی تربیت اور اللہ تعالیٰ سے زندہ تعلق پیدا کرنے کے لئے روحانی آفتاب کا محتاج رہتا ہے۔اللہ تعالیٰ کے قانون کے مطابق یہ ناممکن ہے کہ کوئی قوم روحانی طور پر گمراہی میں مبتلا ہوئی ہو اور اللہ تعالٰی نے اس کی ہدایت کے سامان نہ کئے ہوں جیسا کہ قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے وَإِنْ مِنْ أُمَّةٍ إِلَّا خَلَافِيهَا نَذِيرٌ (فاطر: 25) پھر اللہ تعالیٰ کا یہ قانون بھی جاری ہے کہ اللہ تعالیٰ جب کسی قوم میں نبی بھیجتا ہے اور روحانی آفتاب ان کے لئے طلوع ہوتا ہے اس قوم کو ہدایت نصیب ہو جاتی ہے۔روحانی تربیت حاصل ہو جانے کے ایک عرصہ بعد جب وہ پھر بگڑنے لگیں تو ان کو ان کے حال پر نہیں چھوڑ دیتا بلکہ ان کی اصلاح کے سامان پیدا کرتا ہے۔جیسا کہ فرماتا ہے۔ثُمَّ اَرْسَلْنَا رُسُلَنَا تَتْرًا كُلَّمَا جَاءَ أُمَّةً رَّسُولُهَا كَذَّبُوهُ (المومنون: 45 ہم یکے بعد دیگرے رسول بھیجتے رہے مگر جب کسی قوم میں رسول آیا تو انہوں نے اس کی تکذیب کی۔اللہ تعالیٰ نے ہر مذہب کی بنیاد کسی نبی کے ذریعہ ہی قائم کی پھر اس نبی کی وفات کے بعد اس کے قائم کردہ سلسلہ کو جب تک زندہ رکھنا چاہا اس کی حفاظت کے لئے خلفاء یعنی اس نبی کے جانشین مبعوث فرماتا رہا ہے۔لیکن جب اللہ تعالیٰ نے اس سلسلہ کو ختم کرنا چاہا تو پھر اس میں کوئی ربانی مصلح نہیں بھیجا۔اور اس