خطابات مریم (جلد اوّل)

by Other Authors

Page 126 of 801

خطابات مریم (جلد اوّل) — Page 126

126 بادشاہ کی تھی ہر قسم کے خلق کے اظہار کا آپ ﷺ کو موقعہ ملا۔آپ بادشاہ تھے لیکن انتہائی سادہ زندگی گزاری کوئی شان و شوکت کا سامان نہ کیا بلکہ سارے کے سارے اموال غرباء یتامی بیواؤں اور ناداروں کی بہبودی کے لئے خرچ کئے یہاں تک کہ شادی کے لئے حضرت خدیجہ نے بھی اپنی ذاتی جائیداد جو آپ کی خدمت میں پیش کر دی وہ بھی آپ ﷺ نے غرباء یتامی پر خرچ کر دی اور تمام غلام آزاد کر دیئے۔غرضیکہ رسول اللہ ﷺ کی زندگی اللہ تعالیٰ کے ارشاد کے مطابق کہ لَكُمْ فِي رَسُولِ اللَّهِ أسْوَةٌ حَسَنَةٌ (الاحزاب : 22) ہر طبقہ اور ہر زمانہ کے انسانوں کے لئے کامل نمونہ ہے بچوں کے لئے بھی نوجوانوں کے لئے بھی اور بوڑھوں کے لئے بھی مردوں کے لئے بھی عورتوں کے لئے بھی امیروں کے لئے بھی غریبوں کے لئے بھی بادشاہ کے لئے بھی رعایا کے لئے بھی کاروباری انسانوں کے لئے بھی تاجروں کے لئے بھی استادوں کے لئے بھی طالبعلموں کے لئے بھی اور جرنیلوں کے لئے بھی غرض ہر شعبہ زندگی کے لئے اعلیٰ اخلاق دکھانے کا آپ ﷺ کو موقعہ ملا اور ایسا نمونہ دکھایا آپ نے جو ساری دنیا کے لئے قابل تقلید ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام آپ ﷺ کی شان میں فرماتے ہیں۔شانِ حق تیرے شمائل میں نظر آتی ہے تیرے پانے سے ہی اس ذات کو پایا ہم نے ہم ہوئے خیر اہم تجھ سے ہی اے خیر رسل قدم آگے بڑھایا ہم نے تیرے بڑھنے سے اس طرح آپ علیہ السلام فرماتے ہیں گوشه دامن تـــو هــر کــــه گـرفت گربتابد چـومـــــاه نیســـت شـگـفـت خـــــــون خـــــــــود در ره خــــــــدا رانـــــــدنـــــــد نقدِ جاں زیـر پــــایـــت افشـــانــدنــد آن معلم تــــوئـــــی کــــــه در دوران چــونتـــو دیــگــــرن دهند نشان