خطابات مریم (جلد اوّل) — Page 87
87 اپنی بعثت کی غرض اور مدعا کے متعلق فرماتے ہیں:۔ہمارا اصل منشاء اور مدعا آنحضرت ﷺ کا جلال ظاہر کرتا ہے اور آپ کی عظمت کو قائم کرنا ہمارا ذ کر تو ضمنی ہے اس لئے کہ آنحضرت ﷺ میں جذب اور افاضہ کی قوت ہے اور اسی افاضہ میں ہمارا ذکر ہے۔ملفوظات جلد دوم صفحه 200 مولوی محمد احسن صاحب نے ایک کتاب لکھنے کا ارادہ کیا تو حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے فرمایا۔اصل میں ہمارا منشاء یہ ہے کہ رسول اللہ ﷺ کی تقدیس ہو اور آپ کی تعریف ہو اور ہماری تعریف اگر ہو تو رسول اللہ ﷺ کے ضمن میں ہو۔“ ملفوظات جلد دوم صفحہ 205 حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی جو تعریف الہامات میں اللہ تعالیٰ نے فرمائی ان کو بھی آپ آنحضرت مو کی طرف منسوب کرتے ہیں۔یہی جذبہ حقیقی عشق کا جذبہ ہے۔عاشق یہی چاہتا ہے کہ جو کچھ اسے حاصل ہو اپنے محبوب کے قدموں پر نچھاور کر دے۔یہی حال حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا تھا۔آپ فرماتے ہیں۔میں حلفاً کہتا ہوں کہ میرے دل میں اصلی اور حقیقی جوش یہی ہے کہ تمام محامد اور مناقب اور تمام صفات جمیلہ آنحضرت ﷺ کی طرف رجوع کروں میری تمام تر خوشی اسی میں ہے اور میری بعثت کی اصل غرض یہی ہے کہ خدا تعالیٰ کی توحید اور رسول ﷺ کی عزت دنیا میں قائم ہو۔میں یقیناً جانتا ہوں کہ میری نسبت جس قدر تعریفی کلمات اور تجہیدی باتیں اللہ تعالیٰ نے بیان فرمائی ہیں یہ بھی درحقیقت آنحضرت ہی کی طرف راجع ہیں اس لئے کہ میں آپ کا ہی غلام ہوں۔“ ( ملفوظات جلد دوم صفحہ 215 66 اسی طرح آپ فرماتے ہیں۔کم فہم لوگ اعتراض کرتے ہیں کہ میں اپنے مدارج کو حد سے بڑھاتا ہوں میں خدا تعالیٰ کی قسم کھا کر کہتا ہوں کہ میری طبیعت اور فطرت میں ہی یہ بات نہیں کہ میں اپنے آپ کو کسی تعریف کا خواہش مند پاؤں اور اپنی عظمت کے اظہار سے خوش ہوں۔میں ہمیشہ انکساری اور گمنامی کی زندگی پسند کرتا ہوں۔لیکن یہ میرے اختیار اور طاقت سے باہر تھا کہ خدا تعالیٰ نے خود مجھے باہر نکالا اور جس قدر میری تعریف اور بزرگی کا اظہار اس نے اپنے پاک کلام میں جو مجھ پر نازل کیا گیا ہے۔کیا یہ ساری تعریف اور بزرگی ساری آنحضرت ﷺ ہی کی ہے۔ملفوظات جلد سوم صفحہ 9 66 حرمات اللہ کی بہتک برداشت کرنا آپ کی طاقت سے باہر تھا۔آپ فرماتے ہیں