خطابات مریم (جلد اوّل)

by Other Authors

Page 86 of 801

خطابات مریم (جلد اوّل) — Page 86

86 آگ جلا نہیں سکے گی۔اور اگر شیروں کے پنجرہ میں ڈالا جاوئے تو وہ کھا نہیں سکیں گے۔میں یقینا کہتا ہوں کہ ہمارا خداوہ خدا نہیں جو اپنے صادق کی مدد نہ کر سکے بلکہ ہمارا خدا قادر خدا ہے جو اپنے بندوں اور اس کے غیروں میں مابہ الامتیا ز رکھ دیتا ہے۔ملفوظات جلد دوم صفحہ 218 اسی طرح ایک دفعہ کسی دشمن کا ذکر تھا کہ شر کرے گا اور حضور کو تکلیف پہنچانے کی کوشش کرے گا۔فرمایا:۔ہم اس بات سے کب ڈرتے ہیں وہ بے شک کرے بلکہ ہم خوش ہیں کہ وہ ایسا کرے کیونکہ ایسے ہی موقع پر اللہ تعالیٰ ہمارے واسطے نشانات دکھلاتا ہے ہم خوب دیکھ چکے ہیں کہ جب کبھی کسی دشمن نے ہمارے ساتھ بدی کے واسطے منصوبہ کیا۔خدا تعالیٰ نے ہمیشہ اس میں سے ایک نشان ہماری تائید میں ظاہر فرمایا۔ہمارا بھروسہ خدا پر ہے انسان کچھ چیز نہیں۔ملفوظات جلد پنجم صفحہ 62 آنحضرت ﷺ سے محبت و عقیدت:۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں۔بعد از خـدا بـعشــق مـحـمـد مـخـمرم گر کفر این بودبـخـداســخــت کــافــرم جس سے محبت ہوتی ہے اس کے لئے انسان کو غیرت بھی بے انتہا ہوتی ہے۔انسان اپنے محبوب کے خلاف بات سننا برداشت نہیں کرتا یہی حال حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا آنحضرت ﷺ کے خلاف تھابات سننا آپ کی طاقت سے باہر تھا۔آپ فرماتے ہیں۔اگر عیسائی ایک کتاب اسلام پر اعتراض کرنے کی غرض سے لکھتے ہیں تو مسلمانوں کو آزادی کے ساتھ اس کا جواب لکھنے اور عیسائی مذہب کی تردید میں کتابیں لکھنے کا اختیار ہے۔میں حلفاً کہتا ہوں کہ جب کوئی ایسی کتاب پر نظر پڑتی ہے تو دنیا اور مافیھا ایک مکھی کے برابر نظر نہیں آتی۔میں پوچھتا ہوں کہ جس کو وقت پر جوش نہیں آتا کیا وہ مسلمان ٹھہر سکتا ہے۔کسی کے باپ کو برا بھلا کہا جائے تو وہ مرنے مارنے کو تیار ہو جاتا ہے لیکن اگر رسول اللہ ﷺ کوگالیاں دی جائیں تو ان کی رگ حمیت میں جنبش بھی نہ آوے اور پر واہ بھی نہ کریں یہ کیا ایمان ہے؟ ملفوظات جلد اوّل صفحہ 141-142