خطاب برموقعہ جلسہ سالانہ برطانیہ یکم اگست 2010ء

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 5 of 56

خطاب برموقعہ جلسہ سالانہ برطانیہ یکم اگست 2010ء — Page 5

اختتامی خطاب جلسہ سالانہ یو۔کے ۲۰۱۰ء اور اس پر اعتراض کیسے جانے لگے ہیں تا کہ کم علم احمدی مسلمانوں کو بھی احمدیت سے پیچھے ہٹایا جائے اور غیر احمدی مسلمانوں کے جذبات کو بھی انگیخت کر کے فتنہ کو ہوا دی جائے اور یہی ہمیشہ سے فتنہ پردازوں اور معترضین کا شیوہ رہا ہے۔اپنے زعم میں وہ یہ کوشش کرتے ہیں۔بہر حال جب آنحضرت ﷺ کی پیشگوئیوں کے مطابق آنے والے مسیح و مہدی نے نبوت کا مقام حاصل کرنا تھا تو جیسا کہ میں نے ابھی کہا ہے مخالفین اور مفاد پرستوں نے مخالفت میں بھی بڑھنا تھا۔یہ لوگ ایسے ائمۃ الکفر ہیں جن کے بارہ میں خدا تعالیٰ فرماتا ہے کہ الَّذِینَ خَسِرُوا أَنْفُسَهُمْ فَهُمْ لَا يُؤْمِنُوْنَ (الانعام: 13 ) یہ وہ لوگ ہیں جنہوں نے اپنے آپ کو گھاٹے میں ڈالا ہے اور یہ کبھی ایمان نہیں لائیں گے۔پس یہ وہ لوگ ہیں جو خود تو ڈوبے ہی ہیں اور دوسروں کو بھی ڈبونے کی کوشش کر رہے ہیں۔پس یہ مخالفت تو حضرت مسیح موعود کی سچائی کا ثبوت ہے۔اگر خدا تعالیٰ کا کلام کہ أَخَرِيْنَ مِنْهُمْ لَمَّا يَلْحَقُوا بِهِمْ ( الجمعه : 4) سچ ہے اور یقینا سچ ہے۔زمین و آسمان ٹل سکتے ہیں لیکن خدا تعالیٰ کے کلام کو کبھی نہیں ٹالا جاسکتا تو پھر اس آیت کا مصداق بنتے ہوئے آنے والے مسیح موعود نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی غلامی میں نبوت کا اعزاز پانے کے بعد ایسی مخالفت کا سامنا کرنا تھا اور کیا اور آپ کی جماعت آج تک کر رہی ہے اور یہی مومنین کی جماعت سے روا رکھا