خلیج کا بحران — Page 98
۹۸ ۱۶ نومبر ۱۹۹۰ء کے نانسی نظریہ سے کسی طرح بھی کم نہیں بلکہ ان کے لٹریچر کا میں نے تاریخی طور پر مطالعہ کر کے دیکھا ہے۔آج کا لٹریچر نہیں ، قدیم سے، حضرت داؤد کے زمانے سے ان کے لٹریچر میں ایسا موادملتا ہے کہ گویا یہ قوم دنیا پر غالب آکر دنیا کو غلام بنانے کے لئے پیدا کی گئی تھی اور جب تک تمام عالم کو یہودی تسلط کے نیچے نہ لایا جائے دنیا میں امن قائم نہیں ہو سکتا۔بات یہ بھی امن کی کرتے ہیں لیکن ایسے امن کی بات کرتے ہیں جو ان کے زاویہ نگاہ سے امن دکھائی دیتا ہے اور ساری دنیا کے زاویہ نگاہ سے فساد اور ظلم دکھائی دیتا ہے۔پھر اسی طرح امریکہ میں نسلی برتری کا تصور آج بھی اسی طرح اپنے جوہر دکھا رہا ہے اگر چہ جہاں تک قانونی تحفظات کا تعلق ہے، امریکہ کے کالے لوگوں کو سفید فام قوموں کے ساتھ ایک مساوات عطا ہو چکی ہے لیکن نسلی تعصبات ان قوانین کے ذریعہ مٹا نہیں کرتے۔قوانین جو بھی ہوں نسلی تعصبات کا اپنا ایک قانون ہے جو رائج رہتا ہے اور باقی قوانین پر غلبہ پالیتا ہے۔پس امریکہ سیاہ فام قوموں کی جو موجودہ حالت ہے اس کو سفید فام قوموں کے برابر سمجھنا انتہائی پاگل پن ہو گا۔کسی پہلو سے بھی ان کو مساوات نصیب نہیں۔ہر پہلو سے وہ اتنا پیچھے جاچکے ہیں اور اتنے دبائے گئے ہیں کہ ان کے اندر نفرتیں ابھر رہی ہیں۔جب میں امریکہ گیا تو مجھے کسی نے یہ کہا کہ آپ کی جماعت بہت آہستہ پھیل رہی ہے اور بعض دوسرے جو مسلمان فرقے ہیں وہ ان کالے افریقوں میں بڑی تیزی کے ساتھ مقبول ہورہے ہیں ، آپ بھی کوئی ایسی ہی ترکیب کریں۔میں نے ان کو کہا کہ میں تو ایسی ترکیبوں کے خلاف جہاد کرنے کے لئے آیا ہوں۔مذہب کے نام پر یہ ان کے اندر دبی ہوئی نفرتوں کو ابھارتے ہیں اور چنگاریوں کو آگ بناتے ہیں اور یہ ان کے مزاج کے مطابق بات ہے۔اس لئے آج اگر احمدیت نفرت کی تعلیم دینا شروع کرے اور ان کے اندر جو احساس کمتری ہے اس سے کھیلنے لگے اور اس دبی ہوئی آگ کو شعلے بنانا چاہے تو جماعت احمد یہ اتنی منظم جماعت ہے کہ تمام دوسری جماعتوں سے سبقت لے جاسکتی ہے۔دس پندرہ سال کے اندر سارے امریکہ کے کالوں پر جماعت احمدیہ قبضہ کر سکتی ہے مگر ہمیں کسی عددی غلبے کی ضرورت