خلیج کا بحران

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 82 of 376

خلیج کا بحران — Page 82

۸۲ ۹ نومبر ۱۹۹۰ء تمام ملک میں یہ قانون رائج کیا کہ وہ اچھوت جو ہزاروں سال سے مظلوم چلے آ رہے ہیں ان کے حقوق کو قائم کرنے کے لئے ضروری ہے کہ ان کے لئے حکومت میں نوکریوں کے تحفظات دیئے جائیں اور ایک خاص فیصد مقرر کر دی گئی کہ اتنی فیصد تعداد کی نسبت کے لحاظ سے لازماً اچھوت قوموں کے لئے حکومت کی ملازمتیں ریزرور کھی جائیں گی۔یہ ایک بہت بڑا قدم تھا اور ایسے ہندوستانی ملک میں یہ قدم اُٹھا نا جہاں ایک لمبے عرصے سے اونچی ذات کا قبضہ رہا ہو، جہاں ان کا مذہب انہیں کہتا ہو کہ اونچی ذات کے حقوق زیادہ ہیں اور نچلی ذات کے کوئی بھی حقوق نہیں ، ایک بہت غیر معمولی عظمت کا مظاہرہ تھا جو بہت کم دنیا کے لیڈروں کو نصیب ہوتی ہے۔پھر یہی نہیں بلکہ جب اس کے خلاف ایک شور برپا ہوا تو سینہ تان کے اس کا مقابلہ کیا اور کوئی پرواہ نہیں کی کہ اس کے نتیجے میں اقتدار ہاتھ سے جاتا ہے کہ نہیں۔ابھی یہ شور و غوغا کم نہیں ہوا تھا کہ ان کے خلاف سازشیں کرنے والوں نے بابری مسجد کے تنازعہ کو زیادہ اُچھالنا شروع کیا اور لاکھوں کروڑوں ہندو اس بات کے لئے تیار ہو گئے کہ وہ بابری مسجد کی طرف کوچ کریں گے اور اس کی اینٹ سے اینٹ بجادیں گے اور وہاں وہ پرانا تاریخی لحاظ سے موجود یا غیر موجود جو بھی شکل تھی رام کے مندر کی دوبارہ تعمیر کریں گے۔اتنے بڑے چیلنج کا مقابلہ کرنا اور ہند وفوج کی اکثریت کو اس بات پر آمادہ کرنا کہ اگر تمہارے ہم مذہب بھی جتھہ درجتھہ یہاں حملہ کرنے کی کوشش کریں تو ان کو گولیوں سے بھون دو لیکن مسجد کے تقدس اور ہندوستان کے قانون کے تقدس کی حفاظت کرو۔یہ کوئی معمولی بات نہیں ہے۔بلاشبہ بہت سے ہندوان کوششوں میں مارے گئے اور ہندو فوجیوں کے ہاتھوں مارے گئے ، ہندو پولیس کے ہاتھوں زدوکوب کئے گئے اور اس کے علاوہ بہت سے زخمی ہوئے ، بہت سے قید ہوئے۔ان کے راہنما کو جو بہت بڑی طاقت کا مالک ہے اور جس کے اشتراک اور اتحاد کی وجہ سے ان کی حکومت قائم تھی ان کو قید کر دیا گیا۔غرضیکہ یہ جانتے ہوئے کہ جس شاخ پر میں بیٹھا ہوا ہوں اسی شاخ کو کاٹ رہا ہوں۔بیوقوفی کی وجہ سے نہیں بلکہ بہادری اور اصول پرستی کی خاطر اس عظیم راہنما نے گرنا منظور کر لیا، خواہ گر کر اس کی سیاسی زندگی کو بھی ہمیشہ کے لئے خطرہ درپیش تھا لیکن کوئی پرواہ نہیں کی۔