خلیج کا بحران — Page 70
۹ رنومبر ۱۹۹۰ء کوئی ہماری آواز سُنے یا نہ سُنے ، ہمارا فرض ہے کہ اس وقت جو بھی نصیحت کا حق ہے وہ ضرور ادا کریں لیکن محض نصیحت پر بناء نہیں کرنی کیونکہ نصیحت ان کانوں پر پڑے جو سننے کے لئے آمادہ نہ ہوں، حالات اُن آنکھوں کو دکھائے جائیں جو دیکھنے کے لئے تیار نہ ہوں اور بات ان دلوں تک پہنچانے کی کوشش کی جائے جن کے اوپر ضد کی مہریں لگی ہوں تو جو بھی انسان کرنا چاہے اس کا نیک نتیجہ نہیں نکل سکتا اس لئے دعائیں بہت ضروری ہیں۔نصیحت میں تاثیر پیدا کرنے کے لئے بھی دعاؤں کی ضرورت ہے اور جہاں تک غیر دنیا کا تعلق ہے ان کے رخ موڑنے کے لئے بھی دعاؤں کی ضرورت ہے۔آپ کی دعاؤں کے بھی دو رخ ہونے چاہئیں۔ایک یہ کہ اللہ اہلِ اسلام میں ہوشمند لیڈرشپ پیدا فرمائے اور اہل اسلام کی قیادت جن لوگوں کے ہاتھ میں ہے ان کو عقل دے، ان کو تقویٰ کا نور عطا کرے اور حالات کو سمجھنے کی توفیق بخشے اور دوسری طرف جو ظالم باہر کی دنیا سے اسلام پر حملہ آور ہونے والے ہیں یا ہور ہے ہیں یا اندرونی طور پر مسلمانوں کے اندر سے ان سے دشمنی کرنے والے اسلام کے بھیس میں اُن سے دشمنی کر رہے ہیں ان سب کے رُخ پھیر دے اور ان کی تمام کوششوں کو نا مراد اور نا کام فرمادے۔عراق کے خلاف پیش کی جانے والی دلیل سرسری طور پر جو کچھ اس وقت ہو رہا ہے وہ میں آپ کے سامنے مختصر ارکھتا ہوں۔سرسری طور پر تو نہیں مگر مختصر رکھتا ہوں کیونکہ اس سے پہلے اس مضمون پر مختلف رنگ میں میں روشنی ڈال چکا ہوں۔عراق کے ساتھ وابستہ جھگڑے کا تعلق در حقیقت کویت پر عراق کے قبضے سے ہے۔یہ تو سب دوستوں کو معلوم ہے اور اس وقت تمام دنیا کی طاقتوں کو عراق کے خلاف جو اکٹھا کیا جارہا ہے اس کے محرکات کیا ہیں ان میں سے ایک دو میں نے بیان کئے لیکن بہت گہرے محرکات ہیں۔اگر توفیق ملی تو آئندہ کبھی ان پر تفصیل سے روشنی ڈالوں گا اور یہ بتاؤں گا کہ ان سازشوں کی باگ ڈور در حقیقت کن ہاتھوں میں ہے لیکن خلاصہ اس جھگڑے کا یہی ہے کہ ایک مسلمان ملک نے ایک ایسے خطہ زمین پر قبضہ کر لیا جو