خلیج کا بحران — Page 53
۵۳ ۲۶ اکتوبر ۱۹۹۰ء عجیب بات ہے کہ ترک قوم ترکی میں کم اور ترکی سے باہر زیادہ ہے اور چھ اور چار کی تقریباً نسبت ہے۔اگر چار ترک ترکی میں آباد ہوں تو چھ ترک ترکی سے باہر ہیں اور اس سے میری مراد یہ نہیں کہ یورپ میں مختلف حصوں میں پھیلے پڑے ہیں وہ تو ہیں ہی وہ تو دنیا کی ہر قوم دنیا کے تقریباً ہر دوسرے ملک میں چلی جاتی ہے مگر زیادہ تر روس میں ترک قوم آباد ہے اور ترکمان کہلاتے ہیں۔اگر چہ یہ آپس میں بھی بے ہوئے ہیں اور مختلف قسم کی تحریکات اب جنم لے رہی ہیں جن میں ایک دوسرے سے ایک ترک ریاست کو جو دوسری ترک ریاست سے خطرات درپیش ہیں اُن کو اُبھار کر آپس میں ایک دوسرے کے مقابل پر پیش بندیاں کی جارہی ہیں لیکن ساتھ ہی ایک عمومی جذ بہ اُبھر رہا ہے کہ ہم ترک قوم ہیں اور ہمارا ترکی سے الحاق ضروری ہے اور اس خیال کو تر کی قوم آئندہ ہوا دے گی اور ترک قوم کے مفادات اس بات سے وابستہ سمجھے جائیں گے کہ دنیا کے تمام ترک اکٹھے ہو جائیں اور ترکی کا لفظ ایک وسیع تر ملک پر اطلاق پائے اور Ottoman ایمپائر کا جو وسیع تصور تھا اُس نے لازماً دوبارہ جنم لینا ہے۔اُدھر اسلام بھی اس معاملے میں ایک کردار ادا کرنے والا ہے اور اُن قوموں میں سے جو ایران سے تعلق رکھنے والی قومیں ہیں اور ترکی بولنے کے باوجود اُن میں ایرانی اثرات بھی بڑے گہرے ہیں اُن کو امیران اپنی طرف بلائے گا اور اُن میں سے بہتوں کا شیعہ ہونا اس بات میں ممد ہو گا۔پھر ایسی قومیں ہیں جو خالصہ سُنی ہیں قطع نظر اس کے کہ وہ ترکی بولنے والی ہیں ، اوٹی فرزبان بولتی ہیں یا کوئی اور زبان بولتی ہیں اُن کو سُنی مسلمان دنیا اگر اُن کو اپنی ہوش آنے دی گئی تو اپنی دولت کے ذریعے اپنی طرف کھینچنے کی کوشش کریں گے۔روی سلطنت کا شیرازہ بکھر رہا ہے روس ویسے ہی ایسے مقام پر پہنچ چکا ہے جہاں یہ ٹوٹ رہا ہے اور بکھرنے والا ہے۔کوئی غیر معمولی قوت ایسی اُبھرے جو اُس کو بکھرنے اور ٹوٹنے سے روک دے تو یہ ایک الگ مسئلہ ہے مگر سر دست جہاں تک میں نے مطالعہ کیا ہے ایسی کوئی بیرونی یا اندرونی طاقت دکھائی نہیں دیتی