خلیج کا بحران — Page 347
۳۴۷ ۸ مارچ ۱۹۹۱ء کہا بالکل صحیح شکایت ہے۔ان تمام معاملات میں جو ہمارے سامنے رکھے گئے ہیں حکومت نے غیر منصفانہ طریق اختیار کیا ہے اور ریڈ انڈینز کا حق ہے کہ پرانے سب فیصلوں کو منسوخ کر کے ان کے حقوق بحال کئے جائیں۔جب یہ فیصلہ ہوا تو امریکہ کے صدر نے کہا کہ عدالت عالیہ کا فیصلہ سر آنکھوں پر لیکن اب عدالت عالیہ کو چاہئے کہ اس کو نافذ بھی کر دے۔تو بالکل وہی حیثیت آج یونائیٹڈ نیشنز کی ہے ان پانچوں میں سے جن کو Permanent Members کہا جاتا ہے اگر ایک بھی چاہے کہ فیصلہ نافذ نہیں ہوسکتا، تو نہیں ہوسکتا۔عجیب انصاف کا ادارہ ہے کہ جس کے خلاف بڑی طاقتیں سر جوڑ لیں اور ظلم پر اکٹھی ہو جائیں تو وہاں ہر چیز نافذ ہو جائے گی لیکن جہاں یہ فیصلہ ہو کہ نافذ نہیں ہونے دینا تو وہاں دنیا کا کوئی ملک الگ الگ یا سارے مل کر بھی کوشش کریں تو اس کے مقابل پر ایک ملک کھڑا ہوسکتا ہے اور کہ سکتا ہے کہ فیصلہ نافذ نہیں ہوگا اور اگر اتفاق بھی کر جائے جیسا کہ فلسطین کے مسئلہ میں کئی ریزولیوشنز میں پانچوں طاقتوں نے اتفاق بھی کر لیا کہ اسرائیل وہ علاقے خالی کر دے تو اگر وہ پانچوں اتفاق بھی کر جائیں تب بھی فیصلہ نافذ نہیں ہو سکتا۔یہ عجیب قسم کا امن عالم کا ادارہ ہے اور عجیب قسم کی United Nations ہے فیصلے کرنے کا اختیار ہے، فیصلے نافذ کرنے کا اختیار نہیں۔فیصلے نافذ کرنے کا اختیار بڑی طاقتوں کو ہے اور بڑی طاقتوں کی مرہون منت تمام دنیا کی قومیں بنی ہوئی ہیں۔یہ ادارہ زندہ رہنے کے لائق نہیں ہے۔یہ غلامی کو جاری رکھنے کا ادارہ ہے۔غلامی کے تحفظات کا ادارہ ہے۔آزادی کے تحفظات کا ادارہ نہیں ہے۔اس لئے اگر آج تیسری دنیا کی قوموں نے اس ادارے کے خلاف علم بغاوت بلند نہ کیا یا یہ کہنا چاہئے کہ ان کو انصاف کے نام پر تعاون پر مجبور نہ کیا اور اپنے قوانین بدلنے پر مجبور نہ کیا تو دنیا کی تو میں آزاد نہیں ہوسکیں گی اور یہ ادارہ مزید خطرات لے کر دنیا کے سامنے آئے گا اور اسے بار بار بعض خوفناک مقاصد کو حاصل کرنے کے لئے استعمال کیا جائے گا۔اس کی تفصیل میں جانے کی اس وقت ضرورت نہیں۔