خلیج کا بحران — Page 30
۷ اسراگست ۱۹۹۰ء خاموشی اور حکمت کے ساتھ اور فساد مچائے بغیر وہ قدم آگے بڑھا ئیں تو اگلے دس یا پندرہ سال کے اندر عالم اسلام اتنی بڑی طاقت بن سکتا ہے کہ غیر اس کو ٹیڑھی نظر سے نہیں دیکھ سکیں گے اور چاہیں بھی تو ان کی پیش نہیں جائے گی اور اگر آج ٹھوکر کھائی ، آج غلطی کی تو ایک ایسی خطرناک منزل ہے کہ یہاں سے پھر ٹھوکر کھا کر ایک ایسی غار اور ایسی تباہی کے گڑھے میں بھی گر سکتے ہیں جہاں سے پھر واپسی ممکن نہیں رہے گی۔احمدی درد دل سے دعائیں کریں اس کے ساتھ ہی میں جماعت کو تلقین کرتا ہوں کہ وہ بہت ہی سنجیدگی اور در ددل کے ساتھ دعائیں کریں۔مسلمان ممالک ہم سے جو بھی زیادتیاں کرتے ہیں یا کرتے رہے ہیں یا آئندہ کریں گے یہ ان کا کام ہے کہ وہ خدا کو خود جواب دیں گے مگر جیسا کہ میں نے بیان کیا تھا ہم اسلام کے وفادار ہیں اور اسلامی قدروں کے وفادار ہیں ہمیں اس بات سے کوئی خوف نہیں کہ اسلامی نقطہ نگاہ سے کسی مسلمان ملک کی غلطی کی نشاندہی کر کے اُس سے عاجزانہ درخواست کریں کہ اپنی اصلاح کرو اور اُس کے نتیجہ میں خواہ وہ ہمارا دشمن ہو جائے یا ہم سے بعد ازاں انتظامی کاروائیوں کی سوچے۔ہمیں اس بات کی کوئی پرواہ نہیں کیونکہ ہمارا یہ طرز عمل خالصہ اللہ ہے۔ہم جانتے ہیں کہ آج اسلام کی روح قرآن اور سنت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم میں ہے۔اگر قرآن اور رسول اللہ علی کی سنت سے محبت ہے تو لازماً اس روح کی ہمیں حفاظت کرنی ہوگی اور اس روح کی حفاظت کے لئے تمام دنیا کے احمدی ہر قسم کی قربانی کے لئے تیار ہیں۔حق بات کہنے سے وہ باز نہیں آئیں گے اور دنیا کی کوئی طاقت ان کو حق بات سے باز نہیں رکھ سکتی اور ایسی حق بات جو سراسر کسی کے فائدہ میں ہو۔اگر اس سے کوئی ناراض ہوتا ہو پھر ہماری پناہ ہمارے خدا میں ہے ہمارا تو کل ہمارے مولیٰ پر ہے اور ہمیں دینا کی سیاستوں سے کوئی خوف نہیں۔اس ضمن میں میں آپ کو ایک خوشخبری بھی دینی چاہتا ہوں کہ جو نصیحت میں نے کی ہے یہ نصیحت