خلیج کا بحران — Page 29
۲۹ ۱۷ اگست ۱۹۹۰ء بیسیوں سال تک بالکل کچلی جائے گی اور اسلامی مملکتیں پارہ پارہ ہو جائیں گی اور کاملہ غیروں پر ان کو انحصار کرنا پڑے گا۔اتنے خوفناک بادل اس وقت گرج رہے ہیں اور ایسی خوفناک بجلیاں چمک رہی ہیں کہ اگر ان لوگوں کو نظر نہیں آرہیں تو میں حیران ہوں کہ کیوں ان کو دکھائی نہیں دیتیں، نہ ان کو ان کا شور سنائی دے رہا ہے ، نہ ان کو خطرات دکھائی دے رہے ہیں اور جاہلوں کی طرح دو حصوں میں بٹ کر ایک دوسرے کے خلاف نبرد آزما ہوئے ہوئے ہیں۔پس ضروری ہے کہ عراق یہ پیغام دے اور بار بار یہ پیغام ریڈیو ٹیلی ویژن کے اوپر نشریات کے ذریعہ تمام عالم اسلام میں پہنچایا جائے کہ ہم واپس ہونا چاہتے ہیں۔ہم اپنی غلطی کو تسلیم کرتے ہوئے عالم اسلام کی عدالت کے سامنے سرتسلیم خم کرتے ہیں لیکن اس میں غیروں کو شامل نہ کرو۔یہ ایک ایسی اپیل ہے جس کے نتیجے میں تمام مسلمان رائے عامہ اتنی شدت کے ساتھ عراق کے حق میں اُٹھے گی کہ یہ حکومتیں جو ارادہ بدنیتوں کے ساتھ بھی غیروں کے ساتھ تعلقات بڑھانے پر مجبور ہیں وہ بھی مجبور ہو جائیں گی کہ اس اپیل کا صحیح جواب دیں اور اگر نہیں دیں گی تو پھر اگر یہ خدا کی خاطر کیا جائے اور خدا کی تعلیم کے پیش نظر اسلامی تعلیم کی طرف لوٹا جائے تو اللہ تعالیٰ خود ضامن ہوگا اور یقینا اللہ تعالیٰ عراق کی ان خطرات سے حفاظت فرمائے گا جو خطرات اس وقت عراق کے سر پر منڈلا رہے ہیں۔ہماری تو ایک درویشانہ اپیل ہے، ایک غریبانہ نصیحت ہے اگر کوئی دل اسے سنے اور سمجھے اور قبول کرے تو اس کا اس میں فائدہ ہے کیونکہ یہ قرآنی تعلیم ہے جو میں پیش کر رہا ہوں اور اگر تکبر اور رعونت کی راہ سے ہماری اس نصیحت کو رد کر دیا گیا تو میں آج آپ کو متنبہ کرتا ہوں کہ اتنے بڑے خطرات عالم اسلام کو درپیش ہونے والے ہیں کہ پھر مدتوں تک سارا عالم اسلام نوحہ کناں رہے گا اور روتا رہے گا اور دیواروں سے سر ٹکراتا رہے گا اور کوئی چارہ نہیں ہوگا، کوئی پیش نہیں جائے گی کہ ان کھوئی ہوئی طاقتوں اور وقار کو حاصل کر لیں جو اس وقت عالم اسلام کا دنیا میں بن رہا ہے اور بن سکتا ہے۔عملاً اس وقت مسلمان ممالک ایک ایسی منزل پر پہنچ چکے ہیں جہاں سے اگر