خلیج کا بحران — Page 282
۲۸۲ ۲۲ فروری ۱۹۹۱ء تقدیر کی کوئی بات ہے کہ وہ آغاز بھی ایک Storm سے ہوا تھا اس Storm کا نام امریکن مؤرخین Tropic Storm کہتے ہیں۔واقعہ یہ ہوا کہ دو امریکن جہاز جب شمالی ویٹنام اور جنوبی ویتنام کی جنگ جاری تھی اور اشتراکی ویٹنا میز ، جنوبی غیر اشترا کی حکومت کا تختہ الٹنے کی کوشش کر رہے تھے تو امریکہ کو بہانے کی تلاش تھی کہ کسی طرح اس ملک میں دخل دے کر جنوبی ویٹنام کی حمایت میں شمالی ویٹنام کو شکست دی جائے۔چنانچہ ان کا ایک جہاز جس کا نام Maddox تھاMaddox جہاز شمالی ویٹنام کے سمندر کے اس حصے میں داخل ہو گیا جو در حقیقت ان کی اپنی حدود کا علاقہ تھا، جس پر ان کی بالا دستی ہوتی ہے۔اس پر انہوں نے کچھ Petrol Boats بھیجیں تاکہ وہ اس جہاز پر حملہ کریں اور انہوں نے حملے کی کوشش بھی کی مگر جہاز ان کو Destroy کر کے ان کے حملے سے نکل کر باہر چلا گیا اور باہر ان کا ایک ساتھی Destroyer جن کا نام Turner Joy تھا، اس کو لے کر دوسرے یا تیسرے دن واپس آگیا ان کا خیال تھا کہ اب جب ہم دوبارہ حملہ کریں گے تو ہمیں بہانہ ہاتھ آ جائے گا لیکن اتفاق ایسا ہوا کہ Tropic Storm آ گیا اور Tropic Storm بھی جس طرح Desert Storm ہوتے ہیں بہت ہی خطرناک چیز ہے اس کے متعلق لکھتے ہیں کہ ان کی ساری Electronical Equipments Hay'Wiree ہوگئیں ، پاگل ہو گئیں ان کو پتہ ہی نہیں لگتا تھا کہ کیا ہو رہا ہے۔چنانچہ وہ کہتے یہ ہیں کہ انہوں نے واقعہ یہ سمجھا کہ ان پر حملہ ہو گیا ہے۔اب جاہلوں والی بات ہے۔طوفان آرہا ہے۔دکھائی دے رہا ہے اور اس سے یہ کس طرح سمجھ لیا کہ حملہ ہو گیا ہے یعنی ویٹنام نے وہ طوفان چلایا تھا۔بہر حال بہانے جب تلاش کرنے ہوں تو اس طرح کے بے وقوفوں والے بہانے تلاش کئے جاتے ہیں کہ انہوں نے کہا حملہ ہو گیا ہے اور انہوں نے دھڑادھڑ ویٹنام کے علاقے پر بمباری شروع کر دی اور پھر اس بات پر قائم رہ گئے کہ چونکہ انہوں نے حملہ کیا تھا، اس کی جوابی کارروائی کی ہے۔اس پر بڑی شدت کے ساتھ ویٹنام پر حملہ کیا گیا۔ہوائی حملہ بھی کیا گیا اور ایک سال کے اندر اندر یعنی وہ 1964ء کا جو سال ہے وہ ختم ہونے سے پہلے پہلے دولاکھ امریکی سپاہی ویٹنام کی سرزمین میں پہنچادیئے گئے تھے اور 1967ء میں یہ تعداد بڑھ کر