خلیج کا بحران — Page 281
۲۸۱ ۲۲ فروری ۱۹۹۱ء اور ہرحملہ آور کو ایسی ظالمانہ شکست دی ہے کہ اس سے سارے عالم اسلام کی گردن شرم سے جھک جاتی رہی ہے۔ان کو مسلمانوں سے کیا خوف ہے؟ امر واقعہ یہ ہے کہ یہ دنیا کی فتح کے منصوبے ہیں پہلے تیل کی طاقت پر قبضہ کیا جائے گا۔ہر قدم کے بعد جب اس قدم کی یادداشت پھیکی پڑ جائے گی پھرا گلا قدم اٹھے گا۔پھر اس کے بعد اگلا قدم اٹھے گا۔پھر اگلا قدم اٹھے گا۔اس لئے جب میں کہتا ہوں کہ ملتے اور مدینے کو خطرہ ہے اور تو حید کو خطرہ ہے تو اس میں کوئی شک کی بات نہیں ہے انہوں نے بالآخر لازماً تیل کے چشموں پر قابض ہونا ہے یعنی نیت ان کی یہ ہے۔آگے خدا کی تقدیر اور رنگ دکھائے اور ہماری دعائیں بارگاہ الہی میں قبول ہوں تو اور بات ہے ورنہ بظاہر جو منصوبہ ہے وہ یہی ہے۔اس کے بعد یہ مغرب سے اپنے بدلے لیں گے اور ایسے ہولناک بدلے لیں گے کہ مغرب ان کا تصور بھی نہیں کر سکتا۔یہ جنگ کا بگل بجانے والی قوم ہے اور جنگ کا بگل David Ben-Gurion بجاچکے ہیں۔تقریباً 4000 سال پہلے کی آواز ان کے کانوں میں گونج رہی ہے کہ جنگ اور جنگ اور جنگ اور اس کے سوا تمہارے قیام کا اور کوئی مقصد نہیں ہے۔پس اگر امریکہ اور اس کے اتحادی اس خوش فہمی میں ہیں کہ وہ یہودیوں کو بھی پاگل بنارہے ہیں اور مسلمانوں کو بھی پاگل بنارہے ہیں اور ایک کو دوسرے کے خلاف لڑا ر ہے ہیں تو یہ ان کی غلط فہمی ہے۔دینام میں شکست کے نفسیاتی عوامل امریکہ کے متعلق میں نے ایک یہ بھی بیان کیا تھا کہ بہت سے نفسیاتی عوامل ہیں جو امریکہ کو اپنی بعض پرانی ناکامیوں کے داغ مٹانے کے لئے عراق کو ذلیل ورسوا کرنے پر مجبور کر رہے ہیں۔اس سلسلے میں میں نے ویٹنام کا ذکر کیا تھا اور ویٹنام کے متعلق اب میں خلاصہ آپ کو بتا تا ہوں کہ وہاں امریکہ کی خودی کو کس طرح تو ڑا گیا ہے اور کس طرح دنیا کی سب سے عظیم طاقت کے تکبر کو پارہ پارہ کیا گیا ہے۔وینام کی جنگ کا آغاز 4 اگست 1964ء کو ہوا ہے اور عجیب اتفاق ہے یہ تو ارد ہے یا