خلیج کا بحران

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 273 of 376

خلیج کا بحران — Page 273

۲۷۳ ۲۲ فروری ۱۹۹۱ء یاسرعرفات کو بلایا گیا، انہوں نے کھلم کھلا تمام قوموں کے سامنے یہ اقرار کیا کہ میں تمام فلسطینی آزادی کی تحریک کی طرف سے یہ اعلان کرتا ہوں کہ ہم اسرائیل کے وجود کو تسلیم کرتے ہیں اور اس کے زندہ رہنے کے حق کو تسلیم کرتے ہیں۔جب یہ اعلان کر دیا گیا تو اس کے چند دن کے بعد اسرائیل کی طرف سے اس کے جواب میں یہ اعلان ہوا۔The only useful thing the Plo could do, said the spokesman of the Israel foreign ministry, was to disappear Palestine no longer existed and therefore there was no point in it having a liberation movement۔انہوں نے اعلان کیا کہ فلسطین کے وجود کا معنی ہی کوئی نہیں یہ ختم ہو چکا ہے اس کی کوئی حیثیت نہیں ہے اور ان کی وزارت خارجہ نے یہ اعلان کیا کہ یہ جو یاسر عرفات نے ہمیں تسلیم کیا ہے اس کے جواب میں ہمارا رد عمل یہ ہے اور ہمارا فلسطینیوں کو مشورہ یہ ہے کہ وہ تحلیل ہو جائیں وہ ختم ہو جائیں، کالعدم ہو جائیں ، ان کو زندہ رہنے کا کوئی حق نہیں۔یہ وہ قوم ہے جس کے ظلم واستبداد سے آنکھیں بند کر کے کمزور مظلوم فلسیطینیوں کو مسلسل نہایت ظالمانہ پروپیگنڈے کا نشانہ بنایا گیا ہے۔ان کی ساری زمینیں چھین لی گئی ہیں، ان کو ملک بدر کر دیا گیا ہے،ان پر آئے دن انتہائی ظالمانہ کارروائیاں کی جاتی ہیں قتل عام کیا جاتا ہے۔بستیوں کی بستیاں منہدم کر دی جاتی ہیں اور وہ در بدر پھر رہے ہیں ان کا کوئی وطن نہیں رہا۔40 لاکھ فلسطینی دنیا میں در بدر پھر رہا ہے اور ان کے وطن میں یہود کا پودا لگا کر اور اس کے پاؤں جما کر ان کی تعداد میں دن بدن اضافہ کیا جاتا رہا ہے اور کیا جارہا ہے۔ان ساری کوششوں کے باوجود آج بھی فلسطین میں کل 25 لاکھ یہودی ہیں اور ابھی تک 15 لاکھ فلسطینی وہاں موجود ہیں اور اس تعداد میں دن بدن اضافہ ہوتا چلا جارہا ہے اور آئندہ ان کے منصوبوں میں یہ بات داخل ہے کہ جب مغربی کنارے کو ہم یہودیوں سے بھر لیں گے تو پھر مزید جگہ کے مطالبے شروع کریں گے۔پس پہلے یہ مکان بڑھاتے ہیں پھر آبادی بڑھاتے ہیں پھر مکان بڑھاتے ہیں پھر