خلیج کا بحران

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 272 of 376

خلیج کا بحران — Page 272

۲۷۲ ۲۲ فروری ۱۹۹۱ء کی برلن کی بمباری یوں معلوم ہوتا تھا جیسا ایک Tea Party ہورہی ہو یعنی اگر بمباری یہ ہے تو برلن پر جو نہایت خوفناک بمباری 1944ء میں کی گئی تھی وہ اس کے مقابل پر ایک Tea Party کی حیثیت رکھتی تھی۔بعض مبصرین نے بہت عمدہ تجزیہ کیا۔وہ لکھتے ہیں کہ یہ محض PLO کے قتل عام کا منصوبہ نہیں تھا بلکہ فلسطین کی خودی کو ٹکڑے ٹکڑے کر دینے کا منصوبہ تھا اور خودDr۔Nanum Goldman جو Zionism کے بانی مبانی ہیں اور سالہا سال تک World Jewish Congress اور World Zoinist organization کے صدر رہے ہیں، وہ لکھتے ہیں کہ:۔The apparent aims is to liquidate, the palestinan people جو بھی ہمارے منصوبے تھے ان کا کھلا کھلا مقصد یہی تھا کہ فلسطینیوں کو تحلیل کر دیا جائے ان کو صفحہ ہستی سے ناپید کر دیا جائے۔فلسطین کے خلاف اور فلسطینیوں کے خلاف اس قوم نے جو ظالمانہ رویہ اختیار کئے رکھا ہے اس میں فلسطینی لیڈرشپ کی کردار کشی نے بھی بہت ہی اہم کردار ادا کیا ہے۔چنانچہ ایک مغربی مبصر لکھتے ہیں کہ یہ ہمیشہ فلسطینیوں کی کردار کشی کرتے چلے جارہے ہیں یہاں تک کہ فلسطینیوں کو مخاطب بھی اس طرح کرتے ہیں کہ کبھی بھی ایسا نہیں ہوا کہ فلسطینی کا نام لیا گیا ہواور کوئی تحقیر کا اور تذلیل کا لفظ استعمال نہ کیا گیا ہو۔چنانچہ وہ کہتے ہیں کہ بعض دفعہ یہ کہنے کی بجائے کہ فلسطینیوں نے ایسا کیا ، کہتے ہیں Terrorists یہ کرتے ہیں۔Animals یہ کیا کرتے ہیں۔Bastards ایک گندی گالی ہے وہ یہ کیا کرتے ہیں اور بیروت میں عرفات کو ہٹلر کے Banker میں بیٹھا ہوا عرفات بیان کرتے ہیں۔کچھ عرصہ پہلے تک یہ فلسطینیوں سے نفرت کی وجہ یہ بیان کیا کرتے تھے کہ فلسطینی ہمارے وجود کو تسلیم نہیں کرتے تو ہم ان کے وجود کو کیوں تسلیم کریں ہم کس سے بات کریں ان سے بات کریں کہ جو کہتے ہیں کہ تمہیں سمندر میں پھینک دیا جائے۔لمبے عرصے کی کوششوں اور نا کامیوں کے بعد آخر یاسر عرفات نے ان کا یہ عذر دور کرنے کی کوشش کی اور یونائیٹڈ نیشنز کے اس اجلاس میں جس میں