خلیج کا بحران

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 270 of 376

خلیج کا بحران — Page 270

۲۷۰ ۲۲ فروری ۱۹۹۱ء نہیں جتنا دنیا کے سارے جھوٹوں کے مل کر کئے ہوئے وعدوں کا اعتبار کیا جاسکتا ہے۔امر واقعہ یہ ہے کہ 1967ء کی جو جنگ عربوں پر ٹھونسی گئی۔یعنی وہ جارحانہ جنگ جس کے نتیجے میں عربوں کا ایک بہت وسیع علاقہ اسرائیل نے ہتھیا لیا اس جنگ سے پہلے اسرائیل نے یہ اعلان کیا تھا کہ ہم عربوں کی زمین کا ایک فٹ قبضہ کرنے کا ارادہ نہیں رکھتے اور ساری مغربی طاقتوں کو یقین دلا دیا تھا کہ ہماری نیت ہی قبضہ کرنے کی نہیں ہے ہم تو صرف فلسطینیوں کو ذرا مزہ چکھانے کے لئے ایسا کر رہے ہیں کہ اگر تم ہم پر حملوں سے باز نہ آئے اور تمہارے حمایتی اسی طرح جرات کرتے رہے تو ہم اس قسم کی سزا دیں گے۔یہ مقصد ہے صرف چنانچہ Levi Eshkol ہیں جنہوں نے 1967ء کی جنگ سے پہلے اسرائیل کی طرف سے یہ اعلان کیا تھا۔یہ پرائم منسٹر تھے۔کہتے ہیں۔Israel, said the prime minister, had no intenion of annexing even one foot of arab territory۔ایک فٹ بھی Arab Territory کا ہم نہیں لینا چاہتے یہ اسرائیل کے پرائم منسٹر کا اعلان تھا اس جنگ کے بعد آج تک جتنا رقبہ عربوں کا انہوں نے اپنے قبضہ میں کیا ہے اگر اس کو فٹوں میں بیان کریں تو وہ ۷۳ ٹریلین فٹ بنتے ہیں۔Billions کی باتیں تو آپ سن چکے ہیں۔ایک ہزار ملین کا ایک بلین بنتا ہے، ایک ہزار بلین کا ایک ٹریلین بنتا ہے تو ایک فٹ کے بدلے یہ سے ٹریلین یعنی ۷۳ ہزار بلین Feet عرب رقیہپر قابض ہو چکے ہیں۔اس پر مجھے یاد آیا کہ ایک مغربی مصنف نے اسرائیل کی انتقامی کاروائیوں پر تبصرہ کرتے ہوئے لکھا تھا کہ مجھے یہ بات تو سمجھ آجاتی ہے کہ آنکھ کے بدلے آنکھ اور دانت کے بدلے دانت ، ان کی مذہبی تعلیم ہے ایک آنکھ کے بدلے ایک آنکھ تو سمجھ میں آنے والی بات ہے لیکن ایک آنکھ کے بدلے 20 آنکھیں یا اس سے زیادہ کی سمجھ مجھے نہیں آتی۔امر واقعہ یہ ہے کہ اس مصنف نے اسرائیل کے رد عمل کے اعداد و شمار نہیں نکالے۔اس وقت اسرائیل کا مذہب ایک کے بدلے 20 آنکھیں نہیں۔بلکہ ایک آنکھ کے بدلے 20 ہزار یا 20 لاکھ آنکھیں ہیں اور جہاں تک وعدوں کا تعلق