خلیج کا بحران — Page 269
۲۶۹ نبیلی ۲۲ فروری ۱۹۹۱ء مسلسل مکانوں پر مکان منہدم ہوتے چلے جارہے تھے اور لوگ مرتے چلے جارہے تھے اور کوئی شخص نہیں تھا کوئی آواز نہیں تھی دنیا میں جو مظلوم فلسطینیوں کے حق میں اٹھتی ہو مغرب بھی خاموش تھا اور بدقسمتی کی انتہا یہ ہے کہ خود عرب بھی خاموش تھے اور اس وقت تک اسرائیل کا اس قدر رعب پیدا ہو چکا تھا اور اس کے Terror سے اتنے خوف زدہ تھے کہ کسی عرب ملک نے اس کے خلاف آواز نہیں اٹھائی اور بمباری کے نتیجے میں چودہ ہزار آدمی وہاں مرے اور بیس ہزار سے زائد زخمی ہوئے اور لا تعداد انسان بے گھر ہو گئے۔یہ 1982ء کی اس بمباری کا خلاصہ ہے جو بعض اخباروں نے شائع کیا ہے آپ نے شاید سنا ہوگا کہ جنگ عظیم کے آخر پر جب جرمنوں نے انگلینڈ پر اور تحکیم پر 2۔V راکٹ چھوڑے تھے اور اس کے ذریعے بمباری کی تھی تو اس دور کو اس جنگ کا سب سے زیادہ ہولناک اور دردناک دور بیان کیا جاتا ہے انگلستان کی طرف سے بار بار مختلف وقتوں میں مختلف سالوں میں ٹیلی ویژنز پر اور دوسرے پرو پیگنڈے کے ذریعہ 2-V کی اس بمباری کے تذکرے چلتے رہتے ہیں اور اسے بھولنے نہیں دیا جاتا لیکن آپ حیران ہوں گے کہ اس 2-V کی بمباری کے نتیجے میں سارے انگلستان اور سارے تحکیم میں کل ساڑھے سات ہزار اموات ہوئی تھیں اور صرف بیروت میں اس بمباری کے نتیجے میں چودہ ہزار اموات ہو چکی تھیں۔یہ سارے Terrorism کے واقعات ہیں جو کسی کھاتے میں شمار نہیں ہوتے اور کوئی مغربی طاقت ان کا نوٹس نہیں لیتی اور اسرائیل کے خلاف اس بارہ میں کوئی آواز بلند نہیں کرتی۔اسرائیل کے وعدوں کی حیثیت جہاں تک اسرائیل کے وعدوں کا تعلق ہے یہ کہا جاتا ہے کہ اگر تم اسرائیل سے صلح کر لو تو اسرائیل سے تمہیں کوئی خطرہ نہیں یہ سب جھوٹ ہے اور اتنا بڑا جھوٹ ہے کہ اس کی مثال دنیا میں دکھائی نہیں دیتی۔میں اعداد و شمار سے یہ بات ثابت کرتا ہوں کہ اسرائیل کے وعدوں کا اتنا اعتبار بھی