خلیج کا بحران

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 263 of 376

خلیج کا بحران — Page 263

۲۶۳ ۲۲ فروری ۱۹۹۱ء بکرا۔سادہ سی مثال ہے مگر اس میں بہت گہری حکمت ہے۔اگر چنوں کو بکروں کے سپرد کر دیا جائے کہ ان کی حفاظت کریں یا دودھ کو بلوں کے سپر د کر دیا جائے تو اس سے بڑی حماقت نہیں ہوسکتی۔پس جن مفادات کی حفاظت اسرائیل کے سپرد کی جا رہی ہے ان مفادات کو سب سے زیادہ خطرہ اسرائیل سے ہے اور آخر بات وہیں تک پہنچے گی اگر اس وقت دنیا نے ہوش نہ کی۔لیکن ان امور کا بھی بعد میں نسبتاً تفصیل سے ذکر کروں گا۔نفرتیں مزید نفرتوں کو جنم دیتی ہیں اسرائیل ایک اور بات اپنے مغربی اتحادیوں ، خصوصاً امریکہ کے کان میں یہ پھونک رہا ہے کہ اس علاقے میں امن کے قیام کا صرف ایک ذریعہ ہے، ایک حل ہے اور وہ یہ ہے کہ یہاں ناصروں اور صداموں کی پیداوار کو ختم کر دیا جائے۔جب تک اس علاقے میں ناصر پیدا ہوتے رہیں گے اور صدام پیدا ہوتے رہیں گے کبھی اس علاقے کو امن نصیب نہیں ہوسکتا۔اس پیغام کا دوسرا مطلب یہ ہے کہ عرب کے زندہ رہنے کی اور آزادی کی روح کو کچل دیا جائے اور فلسطین کی حمایت کے تصور کو کچل دیا جائے اور یہ وہ نظریہ ہے جس کو مغرب عمل التسلیم کر چکا ہے اور یہ نہیں دیکھتا کہ حقیقت میں یہ مظالم ناصروں اور صداموں کی پیداوار نہیں بلکہ وہ مظالم کی پیداوار ہیں۔ایک ناصر کو مٹانے کے لئے جو مظالم انہوں نے مصر پر اور دیگر مسلمان ممالک پر کئے تھے آج صدام اُن کی پیداوار ہے اور نفرت کے نتیجے میں ہمیشہ نفرت اگتی ہے اور کبھی نیم کے درخت کو میٹھے پھل نہیں لگا کرتے۔پس بالکل الٹ قصہ ہے جب تک آپ عربوں سے نا انصافی کرتے رہیں گے عربوں پر مظالم توڑتے رہیں گے ایک کے بعد دوسرا ناصر اور ایک کے بعد دوسرا صدام پیدا ہوتا رہے گا اور یہ تقدیر الہی ہے جس کا رخ آپ نہیں بدل سکتے۔آپ نے عراق پر اب تک جو بمباری کی ہے وہ اتنی ہولناک اور اتنی خوفناک ہے کہ جنگ عظیم کی بمباریاں اس کے مقابل پر کوئی حیثیت نہیں رکھتیں۔جنگ عظیم میں 4 سالوں میں تمام دنیا میں جتنے بم برسائے گئے وہ ۲۷لا کھٹن تھے اور صرف