خلیج کا بحران

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 259 of 376

خلیج کا بحران — Page 259

۲۵۹ ۱۵ فروری ۱۹۹۱ء دو ہزار سال تک یہ اپنی تاریخ بھولے رہیں اور اپنا مزاج بالکل فطرت سے نوچ کر نکال دیں یہ ہوہی نہیں سکتا۔چنانچہ وہ تاریخ ہمارے پاس محفوظ نہیں کہ کیا کرتے تھے۔یہ پتا ہے کچھ الزام ان پر ضرور لگتے تھے اور ان پر ظلم کیا جاتا تھا۔پس وہ مظالم جوان پر کئے گئے ہیں وہ مغرب کو خوب یاد ہیں اور مغرب ان کے مزاج سے واقف ہے شیکسپئر کا Sherlock ان کے انتقامی جذبے کی ہمیشہ کے لئے ایک ادبی تصویر بنا بیٹھا ہے۔ایسے حالات میں ہوسکتا ہے کہ آغاز میں تو یہ خیال نہ آیا ہو لیکن رفتہ رفتہ ان کی سوچوں میں یہ بات داخل ہو گئی ہو کہ یہود کا خطرہ اپنے سے اسلام کی دنیا کی طرف کیوں نہ منتقل کر دیا جائے اور اس سے دو ہرا فائدہ حاصل ہوگا۔ایک وقت میں دو دشمن مارے جائیں گے۔ایک لطیفہ، ہے تو بے ہودہ سا مگر اسی قسم کے مزاج کا لطیفہ ہے کہ ایک لڑکی کے متعلق کہتے ہیں کہ اس کے تین دعویدار تھے۔تین خواہش مند تھے اس سے شادی کرنے کے۔ان میں ایک زیادہ ہوشیار تھا وہ خاموش بیٹھا ہوا تھا اور دو آپس میں خوب لڑتے مرتے تھے۔تو کسی نے اس سے پوچھا تم تو بڑے ہوشیار ہوتم کوئی دلچسپی نہیں لے رہے اس نے کہا تم فکر نہ کرو۔میں ایک کو دوسرے سے لڑا رہا ہوں اور نیت یہ ہے کہ وہ اس کو قتل کر دے تو میں مقتول کے حق میں اس کے خلاف گواہ بن جاؤں تو ایک قتل ہوگا دوسرا پھانسی چڑھے گا میدان میرے ہاتھ رہے گا۔یہ لطیفہ ویسے تو لطیفہ ہی ہے لیکن عملی دنیا میں ایک بھیانک جرم کی صورت میں ہمارے سامنے ظاہر ہورہا ہے، کھیلا جارہا ہے۔اور آخری سازش یہی ہے کہ یہود کو ہمیشہ کے لئے مسلمانوں سے انتقام لینے کے لئے ان کو دبانے کے لئے استعمال کرتے رہو اور یہود کا غصہ جو ہمارے خلاف ہے وہ مسلمانوں پر اتر تا رہے گا لیکن جیسا کہ میں آئندہ بیان کروں گا یہ بڑی سخت بے وقوفی ہے مغرب کی وہ دھوکے میں ہیں، وہ دھوکا کھائیں گے اور اس وقت ان کو پتہ لگے گا کہ ہم کیا غلطیاں کر بیٹھے ہیں۔جب یہود کلیہ ان کے ہاتھ سے نکل چکے ہوں گے۔نصائح اور مشورے پیش کرنے کا وعدہ آئندہ میں بعض مشورے دوں گا مغربی طاقتوں کو ، اس صورت حال میں ، اس گند سے نکلنے