خلیج کا بحران — Page 258
۲۵۸ ۱۵ فروری ۱۹۹۱ء اور بہت سے تھے لیکن تیسرا بڑا انتقام Natsi جرمنی میں ان سے لیا گیا جس کے متعلق اگر چه اعداد و شمار کو سب محقق قبول نہیں کرتے لیکن یہود کا یہی اصرار ہے کہ چھ ملین یہود وہاں گیس چیمبرز میں مار دیئے گئے یا اور مظالم کا شکار ہوئے۔ساٹھ لاکھ اور یہ دس سال کے عرصے میں ایسا ہوا ہے۔تو اتنے بھیا نک اتنے خوفناک مظالم تھے ، اس کا تقاضا یہ تھا کہ ان کو اپنا گھر دیا جائے یعنی یہ دلیل تھی اور ان مظالم سے دوڑ دوڑ کر یہ مسلمانوں کی پناہ میں فلسطین جایا کرتے تھے۔یہ بھی تاریخ سے ثابت ہے اور یہ بھی ثابت ہے کہ مسلمانوں نے اپنے عروج کے دور میں یہود پر مظالم نہیں کئے۔دودفعہ صرف فلسطین پر ایسا قبضہ ہوا ہے جہاں جان، مال کی مکمل حفاظت دی گئی ہے اور کسی یہودی کو یا کسی عیسائی کو کوئی نقصان نہیں پہنچایا گیا۔ایک دفعہ حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے زمانے میں اور ایک دفعہ سلطان صلاح الدین ایوبی نے جب فلسطین پر قبضہ کیا ہے پس اس کے سوا محققین یہ لکھتے ہیں کہ ایک بھی واقعہ ایسا نہیں کہ جب فلسطین پر کسی فوج کا جابرانہ قبضہ ہوا ہو اور قتل عام نہ کیا ہو۔چنانچہ Richard انگریز بادشاہ نے جب (ایک دفعہ اس کا کچھ حصہ ) فتح کیا تو تمام یہود، مردوں ، عورتوں اور بچوں کو اور مسلمانوں کو ذبح کروا دیا گیا کوئی نہیں چھوڑا گیا۔یہ اس قوم کی عدل کی ، انصاف کی اور رحم کی اور انسانی قدروں کی تاریخ ہے جس نے یہود کو مجبور کیا اور Herzl کے دل میں خیال آیا کہ ہم امن میں نہیں ہیں۔پس اگر امن میں نہیں تھے تو یہاں سے یا تو سارے بھاگتے لیکن یہ کیا علاج ہوا کہ سارا یورپ اسی طرح اپنے قبضے میں بلکہ یہاں قبضہ بڑھا دیا گیا اور اس کے علاوہ مسلمانوں کے دل میں جابیٹھے۔پس یہ کوئی علاج نہیں ہے۔یہ تو ایسی ہی بات ہے جیسے گدھے سے دولتی کھا کے کوئی اونٹ کی کونچیں کاٹ دے۔تو مارے کوئی اور بدلہ کسی اور سے اتارا جائے۔یہ تو بہت بڑا ظلم ہے کوئی منطق اس میں نہیں ہے۔عیسائی طاقتوں کے لئے میں سمجھتا ہوں ان فیصلوں میں ایک یہ بھی نفسیاتی پس منظر بن گیا ہے۔سوچنے کی بات یہ ہے کہ کیوں بار بار یہود پر مظالم ہوئے۔معلوم ہوتا ہے ہر ظلم کے نتیجے میں یہود کا چونکہ یہ تاریخی مسلک ہے کہ آنکھ کے بدلے آنکھ ، وہ ضرور بدلہ لیتے ہیں، اس لئے ایک تاریخی سلسلہ چلا آرہا ہے یہ کمزور قوموں کی طرح چھپ کر مخفی تدبیروں کے ذریعے بدلے لیتے ہوں گے ورنہ یہ ہو ہی نہیں سکتا کہ