خلیج کا بحران — Page 23
۲۳ ۷ اسراگست ۱۹۹۰ء بڑا حقیقی ہے کہ عراق سے ایسا خوفناک انتقام لیا جائے گا کہ اسے پرزہ پرزہ کر دیا جائے گا اور جب تک ان کے انتقام کی آگ ٹھنڈی نہیں ہوگی، جب تک یہ اُبھرتا ہوا مسلمان ملک جو اس علاقے میں ایک غیر معمولی طاقت بن رہا ہے اسے ہمیشہ کے لئے نیست و نابود نہ کر دیا جائے۔یہ ارادے پہلے اسرائیل میں پیدا ہوئے ہیں اور میں اسرائیل کے جو بیانات پڑھتا رہتا ہوں اُن سے مجھے یقین ہے کہ بہت دیر سے اسرائیل جو یہ پروپیگنڈا کر رہا تھا کہ اسرائیل کو عراق سے خطرہ ہے یہ ساری باتیں اُسی کا شاخسانہ ہیں۔کسی طرح عراق کو آمادہ کیا گیا کہ وہ کو یت پر قبضہ کرے اور پھر یہ سارا سلسلہ جاری ہو۔یہ اللہ بہتر جانتا ہے لیکن ایسے وقت اتفاقی نہیں ہوا کرتے اور ان کے پیچھے کچھ محرکات ہوتے ہیں، کچھ زیر زمین سازشیں کام کر رہی ہوتی ہیں، کہیں۔C۔I۔A کے ایجنٹ ہیں، کہیں دوسرے ایسے غدار ملک کے اندر موجود ہیں جو غیر ملکی بڑی بڑی طاقتوں کی خواہشات کو عملی جامہ پہنانے میں نہایت حکمت کے ساتھ دبی ہوئی خفیہ کارروائیاں کرتے ہیں اور ان کا رروائیوں کا ذکر قرآن کریم کی سورۃ الناس میں موجود ہے کہ خناس وہ طاقتیں ہیں جو ایک شرارت کا بیج بو کر خود پیچھے ہٹ جاتی ہیں اور کچھ پتا نہیں لگتا کسی کو کہ کہاں سے بات شروع ہوئی، کیوں ہوئی، کوئی بڑی حماقت سرزد ہوئی ہے تو کون ذمہ وار ہے؟ لیکن در حقیقت ان کے پیچھے بڑی بڑی تو میں ہوا کرتی ہیں۔پس اس پہلو سے یہ حالات نہایت ہی خطرناک صورت اختیار کر چکے ہیں۔تاریخی پس منظر میں عالم اسلام کا جائزہ اب آپ عالم اسلام کا تاریخی پس منظر میں جائزہ لے کر دیکھیں تو آپ کو معلوم ہوگا کہ کبھی بھی اسلام کی قوت کو بعض مسلمان ممالک کے شامل ہوئے بغیر نقصان نہیں پہنچایا جاسکا۔ساری اسلامی تاریخ کھلی کھلی اس بات کی گواہ پڑی ہے کہ جب بھی مغربی طاقتوں نے مسلمان طاقت کو اُبھرنے سے روکا ہے یا ویسے کسی ظاہری یا مخفی جنگی کارروائی کے ذریعے اُن کو پارہ پارہ کیا ہے یا نقصان پہنچایا ہے تو ہمیشہ بعض مسلمان ممالک کی تائید ان لوگوں کو حاصل رہی۔