خلیج کا بحران — Page 22
۲۲ ۱۷ اگست ۱۹۹۰ء اور اتنی بڑی تیاریاں صرف سعودی عرب کو بچانے کے لئے کی جارہی ہیں ، بہت پرلے درجے کی حماقت ہوگی۔اس سے زیادہ سادگی نہیں ہو سکتی کہ انسان یہ خیال کرے کہ اتنے بڑے ہنگامے جو دُنیا میں برپا ہو رہے ہیں، تمام طرف سے Naval Blockadge ہورہے ہیں اور نہایت خطرناک قسم کے جنگی طیارے جو آج تک کبھی کسی محاذ پر استعمال نہیں ہوئے وہ بھی وہاں پہنچائے جارہے ہیں اور جدید ترین جنگی ہتھیار وہاں اکٹھے کئے جارہے ہیں یہ صرف سعودی عرب کو عراق سے بچانے کے لئے کیا جا رہا ہے۔مجھے جو خطرہ نظر آرہا ہے وہ یہ ہے کہ سعودی عرب کے بہانے عراق کو چاروں طرف سے کلیۂ نہتا کرنے کے بعد اسرائیل کو اجازت دی جائے گی کہ وہ عراق پر حملہ کرے اور Jorden نے اگر یہی رستہ اختیار کیا جو اس وقت اختیار کئے ہوئے ہے یعنی اپنی مجبوری کی وجہ سے عراق کے ساتھ ہے تو اُن کے لئے یہ بہت بڑا بہانہ موجود ہے کہ اس وجہ سے کہ Jorden ان کے ساتھ شامل نہیں ہو رہاJorden کو سزا دی جائے اور اس کی سزا یعنی بقیہ آدھی سزا یہ ہوگی کہ جس طرح اُردن کے مغربی کنارے پر یہود قابض ہو گئے ،Jorden کے باقی علاقے پر بھی جس حد تک ممکن ہے یہود قابض ہو جائیں اور جس حد تک تیزی کے ساتھ عراق وہاں پہنچ سکتا ہے اُس کے کچھ علاقے پر عراق قابض ہو جائے اور اس کے بعد پھر عراق کو شدید سزادی جائے۔اس ضمن میں یہ خطرہ ہے کہ کچھ عرصے تک یہ دباؤ بڑھایا جائے گا اور بھوک سے مجبور کر کے ان کو گھٹنے ٹیکنے پر مجبور کیا جائے گا اور اس دوران اگر کسی وقت مناسب سمجھا گیا تو ایک اشارے پر اسرائیل کو اجازت دی جاسکتی ہے اور یہ سب کہہ سکتے ہیں کہ ہم تو مسلمان فوجوں کے ساتھ مل کر یہاں حفاظت کے لئے بیٹھے ہوئے ہیں۔ہمارا تو اس میں دخل ہی کوئی نہیں اور ہمارے ان فوجی اقدامات کے ساتھ تمام عالم اسلام کا اتفاق شامل ہے اور ہماری طرف سے تو کوئی زیادتی نہیں ہوئی، یہ عراق اور اسرائیل کے درمیان کے معاملات ہیں۔یہ آپس میں طے کرتے رہیں ہم تو بیچ میں دخل نہیں دیں گے اور مسلمان ممالک کی فوجیں چونکہ یہاں مقفل ہو چکی ہوں گی اس لئے دوسرے مسلمان ممالک اگر چاہیں بھی تو الگ ہو کر اسرائیل کے مقابلے کے لئے عراق کی کوئی مدد نہیں کر سکیں گے۔اگر یہ نہ ہو تو اس کے علاوہ بھی یہ خطرہ