خلیج کا بحران — Page 221
۲۲۱ ۸ فروری ۱۹۹۱ء اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اگر یونائیٹڈ نیشنز کے فیصلے کو نافذ کرنے کے لئے امریکہ اور اس کے تمام Alliese کو یہ حق حاصل ہے کہ عراق پر حملہ کر دیں تو جن کا اپنا علاقہ تھا ( یہ کویت تو ان کا اپنا علاقہ نہیں تھا جس کی خاطر یہ حملہ کیا گیا ہے ) جن قوموں کا اپنا علاقہ تھا وہ سالہا سال تک صبر کرتی رہیں، یونائیٹڈ نیشنز کے فیصلے پر کسی نے عملدرآمد نہیں کروایا۔ان کا حق تھا کہ اس علاقے کو لینے کی خاطر وہ فوجی کارروائی کریں۔پس اس کو جارحانہ کارروائی کہنا جارحیت ہے بڑا ظلم ہے یہ ایک مظلوم ، کمزور قوم کی ایک کوشش تھی کہ یونائیٹڈ نیشنز کے فیصلے پر اگر کوئی اور عملدرآمد نہیں کرواتا تو ہم خود کوشش کر دیکھیں۔پس یہ ہے وہاں کی جنگوں کی تاریخ اور اس میں یہ سب تو میں اب تک جو رویہ اختیار کئے ہوئے ہیں وہ آپ کے سامنے ہے۔موجودہ جنگ میں جو باتیں کھل کر سامنے آئی ہیں ان کی تفصیل میں جانے کا وقت نہیں مگر آپ کی یادداشت میں وہ تازہ ہوں گی۔خلاصہ ان سب باتوں کا یہ نکلتا ہے۔( مقاصد کے متعلق میں بعد میں بات کروں گا لیکن خلاصہ اس کا یہ ہے کہ ) اسرائیل کو اس تمام پس منظر کی روشنی میں معلوم ہوتا ہے کہ یہ قو میں یہ حق دیتی ہیں کہ وہ جب چاہے ، جس ملک کے خلاف چاہے جارحانہ کارروائی کرے اور جارحانہ کاروائی کے نتیجے میں جو علاقے وہ ہتھیائے گا اس کے متعلق اگر یونائیٹڈ نیشنز یا سیکیورٹی کونسل فیصلہ بھی کر دیں گی کہ ان علاقوں سے دستبردار ہو جائے تو اسرائیل کو حق حاصل ہے کہ دستبردار نہ ہو اور کسی دوسرے ملک کو یہ حق حاصل نہیں خواہ وہ مظلوم ملک ہو کہ یونائیٹڈ نیشنز کے اس فیصلے کی تعمیل میں اسرائیل سے وہ علاقہ چھینے کی کوشش کرے۔یہ تحفظ حاصل ہے۔اس دوران ایک بات کا میں نے ذکر نہیں کیا کہ 1947 ء سے لے کر 49 ء تک اسرائیل نے جدید دور میں متشددانہ کارروائیاں یعنی Terrorist کارروائیوں کا آغاز کیا اور Menachem Begin اس کے موجود ہیں اور ان Terrorist کارروائیوں کے نتیجے میں ایک برٹش ڈپٹی گورنر تھے غالباً وہ بھی قتل کئے گئے۔کنگ ڈیور ڈ ہوٹل کو بارود سے اڑا دیا گیا جس کے نتیجے میں ایک سو سے زائد آدمی مرے اور بے شمار تباہی پھیلی۔فلسطینیوں پر حملہ کیا گیا جس کے نتیجے میں تین ہزار فلسطینی مرد عورتیں اور بچے ذبح کئے گئے اور بار بار انگریزی حکومت سے بھی تصادم کیا