خلیج کا بحران

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 204 of 376

خلیج کا بحران — Page 204

۲۰۴ یکم فروری ۱۹۹۱ء امریکہ کا اخبار نویس ہمیشہ ہنستا رہتا ہے اور مذاق اڑاتا رہتا ہے اس حصے کا تو میرے ساتھ کوئی تعلق نہیں۔ان کے آپس کے معاملات ہیں لیکن ان کو بات کرنے کا سلیقہ نہیں اور یہ نہیں پتا لگتا کہ میں کس طرح بعض چیزوں پر پردے ڈالوں چنانچہ اپنے امریکہ کے مانگنے کو انہوں نے ایک اور نام دیا ہے۔جیسے ہمارے پنجاب میں مشہور ہے کہ بعض ڈنڈا فقیر ہوتے ہیں بجائے اس کے کہ وہ یہ کہیں کہ بھئی خدا کے واسطے کچھ بھیک ڈال دو۔بھو کے مررہے ہیں کچھ مدد کرو، رحم کرو، وہ ڈنڈا لے کر جاتے ہیں کہ دیتے ہو تو دو ورنہ ہم لاٹھی سے سر پھاڑ دیں گے۔تو انہوں نے اپنا جو طریق کار پیش کیا ہے وہ ڈنڈا فقیر والا ہے۔جب ان سے ایک اخباری نمائندے نے یا ٹیلی ویژن کے نمائندے نے سوال کیا کہ بتائیے آپ دنیا سے کیا توقع رکھتے ہیں۔انہوں نے کہا توقع ! ہم نے تو اب فیصلے کر لئے ہیں کہ فلاں سے اتنا وصول کرنا ہے فلاں سے اتنا وصول کرنا ہے فلاں سے اتنا وصول کرنا ہے اور ہم نے مانگنا تو نہیں۔ہم ان کو بتائیں گے کہ یہ تم نے دینا ہے تو اس نے کہا کہ جناب ! اگر وہ نہ دیں تو پھر کیا کریں گے۔انہوں نے کہا نہ دیں گے تو پھر اتنا میں بتا دیتا ہوں کہ پھر امریکی تعلقات پر انحصار نہ رکھیں۔ایک دبی ہوئی دھمکی تھی تو بہر حال اتنی بڑی قیمت دے رہے ہیں اور تمام عالم اسلام میں جو نام انہوں نے پیدا کیا تھا یکسر اس کو مٹا بیٹھے ہیں۔قریب ہی کے زمانے میں ایک وقت تھا جب کہ پاکستان عملاً امریکہ کا سیٹلائیٹ بن چکا تھا اور عوام الناس اس کو قبول کر چکے تھے۔ہر سیاست دان اپنے وقار اور عظمت کے لئے امریکہ کی طرف دوڑتا تھا اور عوام میں اس کے خلاف رد عمل ہی ختم ہو چکا تھا۔اب چند دنوں کے اندر اندر نفرت کی ایسی آگ بھڑ کی ہے کہ لفظ امریکن وہاں گالی بن گیا ہے اور اسی طرح مسلمان ممالک سے برطانیہ نے اپنے تعلقات کو ادھیڑ کر رکھ دیا ہے اور بہت ہی لمبے عرصے سے جو نیک نام پیدا کیا تھاوہ نام مٹا دیا ہے۔تفصیلی جائزہ لینے کی ضرورت یہ اتنی بڑی قیمت کیوں دے رہے ہیں کیوں نہ Linkage کو تسلیم کر لیا کہ اسرائیل کو کہتے