خلیج کا بحران — Page 203
۲۰۳ یکم فروری ۱۹۹۱ء بڑی بڑی قیمتیں ادا کر رہے ہیں کہ انسان کے تصور میں بھی ان قیمتوں کی کمیت پوری طرح داخل نہیں ہوتی۔مثلاً ایک بلین کی کمیت کیا ہے۔ہم جیسے عام غرباء تصور بھی نہیں کر سکتے کہ ایک بلین کتنی بڑی رقم ہوتی ہے۔ایک بلین روپے بھی ہمارے لئے بہت ہیں لیکن ایک بلین ڈالر تو بہت بڑی رقم ہے۔اس جنگ میں جو اعداد و شمار ظاہر ہوئے ہیں ، صرف امریکہ کا ایک بلین روزانہ خرچ ہورہا ہے ایک بلین ڈالر کا مطلب ہے ایک ارب ڈالر اور جتنے دن یہ جنگ چلے گی یہ اسی طرح خرچ ہوتا چلا جائے گا اور اس کے علاوہ انگریزوں کا خرچ ہو رہا ہے۔اس کے علاوہ فرانسیسوں کا خرچ ہو رہا ہے۔اس سے پہلے ان کے خرچ ہو چکے ہیں اور حالت ابھی سے یہاں تک پہنچ چکی ہے کہ دنیا کے سامنے کشکول لے کر نکلنے پر مجبور ہو گئے ہیں۔انگریز ڈپلومیسی میں امریکہ سے بہت بہتر ہے اور انگریز کی ڈپلومیسی میں صدیوں کی ٹریننگ کی وجہ سے ایک نفاست پائی جاتی ہے۔اس لئے جب ہمارے فارن سیکرٹری صاحب جرمنی گئے تو وہاں سے انہوں نے 7،6 سوملین کی جو Aid انکو دی اس کا اعلان کرتے وقت انہوں نے پہلا فقرہ ہی یہ کہا کہ دیکھو بھٹی ! میں کوئی کشکول لے کر تو نہیں یہاں آیا تھا۔میرے ہاتھ میں تو کوئی کشکول نہیں تھا۔میرے دماغ میں تو Figure بھی کوئی نہیں تھی۔کوئی اعداد نہیں تھے کہ اتنی رقم میں وصول کروں گا۔یہ جرمن بھائی ہمارے بڑے مہربان ہیں۔بہت اچھے لوگ ہیں۔اچھی قوم ہے۔انہوں نے دیکھا کہ ہمارا بھی فرض ہے کہ ہم اپنے ان بھائیوں کی مشکل میں مدد دیں اور War Efforts میں ہم کچھ حصہ ڈالیں تو ہم شکریے سے قبول کرتے ہیں۔ایڈور ڈھیتھ نے کل رات کو اسی بحث میں حصہ لیتے وقت کہا کہ تمہارے جھوٹ کی اور مکاریوں کی حد ہوگئی ہے۔تم نے قوم کو ساری دنیا میں بے عزت کر دیا ہے۔کشکول ہاتھ میں پکڑ کے تم بھاگے پھرتے ہو اس مصیبت میں پڑنے کی ضرورت کیا تھی جس کو سنبھال نہیں سکتے جس کے لئے انگلستان کی عزت کو اور عظمت کو داغدار کر دیا ہے اور اب تم بھکاری بن گئے ہو۔امریکن اس کے مقابل پر کورس (Coarse) یعنی اکھڑ قسم کے Politicians ہیں۔کوئیل صاحب یہاں تشریف لائے ہوئے ہیں جو امریکہ کے وائس پریذیڈنٹ ہیں اور ان کی جو ذہنی اور سیاسی قابلیتیں ہیں ان کے اوپر