خلیج کا بحران — Page 165
۱۶۵ بسم اللہ الرحمن الرحیم سیاسی جنگوں اور جہاد میں ما بہ الامتیاز ( خطبه جمعه فرموده ۲۵ جنوری ۱۹۹۱ء بمقام بیت الفضل لندن ) تشہد وتعوذ اور سورہ فاتحہ کی تلاوت کے بعد حضور انور نے فرمایا:۔ایک بنیادی اور روشن اصول ۲۵ / جنوری ۱۹۹۱ء اسلام کا کوئی وطن نہیں ہے اور ہر وطن اسلام کا ہے۔اس بنیادی اور نہ تبدیل ہونے والے روشن اصول کو بھلا کر بسا اوقات دنیا کے مختلف امتحانوں اور ابتلاؤں کے وقت بعض ملکوں کے مسلمان غلطی کرتے ہیں اور اس کے نتیجے میں خود بھی تکلیف اٹھاتے ہیں اور اسلام کی بدنامی کا بھی موجب بنتے ہیں۔اس کے نتیجے میں یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ تم اپنی وفاداریوں کا تعین کرو اور بہت سے ممالک جہاں بھاری اکثریت غیر مسلموں کی ہے وہ اپنے ملک کی مسلمان اقلیت سے یہ سوال کرتے ہیں کہ تم ہمیں واضح طور پر یہ بتا دو کہ تم پہلے اسلام کے وفادار ہو یا پہلے وطن کے حالانکہ امر واقعہ یہ ہے کہ جیسا کہ میں نے بیان کیا ہے اسلام کا کوئی وطن نہیں اور ہر وطن اسلام کا ہے۔اس حقیقت میں بہت ہی گہرے حکمتوں کے راز پوشیدہ ہیں اور ایک بات جو کھل کر انسان کے سامنے ابھرتی ہے وہ یہ ہے کہ کہیں دنیا میں اسلام اور وطنیت کا تصادم نہیں ہوسکتا یعنی اسلام کے ان بچے اصولوں کا جو عالمی ہیں۔ان کا عالم کے کسی حصے سے تصادم ممکن ہی نہیں ہے کیونکہ عقلاً کل کا جزو سے تصادم قابل فہم نہیں یعنی محالات میں سے ہے، ایسی چیز ہے جو ہو سکتی ہی نہیں۔اگر اسلام کا خطہ ارض کے بعض بسنے والوں سے تصادم ہو تو اسلام ان کا مذہب نہیں بن سکتا، اسلام ان کیلئے رحمت کا پیغام نہیں ، اسلام یہ دعویٰ نہیں کر سکتا کہ میری