خلیج کا بحران — Page 151
یج کا بحران ۱۵۱ ۱۸؍ جنوری ۱۹۹۱ء ضرورت ہے۔سلطان صلاح الدین نے سب سے پہلے عالم اسلام کو اکٹھا کرنے کی کوشش کی تھی۔زندگی کا ایک بڑا حصہ مختلف ٹکڑوں میں بٹی ہوئی عرب ریاستوں کو یکجا کرنے اور ایک مرکزی حکومت بنانے پر عمر کا ایک بڑا حصہ صرف کر دیا اور جب وہ گھر کے حالات سے پوری طرح مطمئن ہو گئے تب انہوں نے فلسطین کے دفاع کے لئے تمام عالم کی طاقتوں کو چیلنج کیا اور دنیا جانتی ہے کہ جس طرح آج مغربی طاقتیں بغداد کے خلاف اکٹھی ہوئی ہیں اسی طرح اس زمانے میں بلکہ اس سے بھی زیادہ شدت اور جذبے کے ساتھ اس روح کے ساتھ کہ گویا ند ہی جنگ ہے، اس روح نے ان کے اندر دیوانگی کی ایک کیفیت بھی پیدا کر دی تھی پس زیادہ شدت اور جذبے اور دیوانگی کے ساتھ صلاح الدین کی طاقت کو توڑنے کے لئے مغرب نے بار بار کوششیں کیں اور باوجود اس کے کہ وہ نسبتا کمزور تھا ، با وجود اس کے کہ وہ کوئی غیر معمولی حربی صلاحیتیں یعنی جنگی صلاحیتیں نہیں رکھتا تھا اس کے باوجود ہر بار اللہ تعالیٰ اس کو فتح پر فتح عطا کرتا چلا گیا اس میں بعض اور صفات بھی تھیں، وہ ایک بہت نیک اور متوکل انسان تھا وہ ایک ایسا شخص ہے جس کے متعلق یورپ کے شدید ترین معاند بھی حرف نہیں رکھ سکے کہ اس نے یہ ظلم کیا اور یہ بداخلاقی کی۔چنانچہ وہ محققین جنہوں نے بہت تلاش کیا ان میں سے بعض نے یہ اعتراف کیا کہ صلاح الدین کے متعلق ہم نے ہر طرح سے کھوج لگا یا کہ کوئی ایک بات اس کے متعلق ایسی بیان کر سکیں کہ جس نے بنیادی طور پر انسانیت کی ناقدری کی ہو، انسانی قدروں کو ٹھکرایا ہو، ظلم اور سفاکی سے کام لیا ہو، بداخلاقی سے کام لیا ہومگر ایسی کوئی مثال اس کی زندگی میں دکھائی نہیں دی۔ایک ہی مثال ان کے سامنے آئی اور یہی مصنف لکھتا ہے کہ اس مثال میں بھی جس کو مغرب نے اچھالا ، دراصل کوئی حقیقت نہیں ہے۔وہ مثال ی تھی کہ وہ یورپین شہزادہ جو حضرت اقدس محمد مصطفی علیہ کے مزار کو اکھیڑنے کے لئے اس نیت کے ساتھ مدینے کی طرف روانہ ہوا تھا اور بہت قریب پہنچ چکا تھا اور اس کے ارادے بہت بد تھے۔اس کو صلاح الدین نے بالآخر پکڑ کر اس کی مہم کو نا کام اور نا مراد کیا اور جب وہ شہزادہ صلاح الدین کے سامنے پیش ہوا ہے تو اس وقت اس کا پیاس سے برا حال تھا ، ایک شربت کا گلاس وہاں پڑا ہوا