خلیج کا بحران — Page 150
۱۸؍ جنوری ۱۹۹۱ء مسلمانوں کا حصہ یہ ظاہر کرنے کے لئے ڈالا گیا ہے کہ یہ کوئی اسلام اور غیر اسلام کی جنگ نہیں بلکہ ایک ظالم کے خلاف مسلمان ممالک کی مدد کے لئے ہم قربانی کر رہے ہیں۔اس قربانی کی حیثیت کیا ہے یہ تو سب دنیا جانتی ہے۔امر واقعہ یہ ہے کہ وہ قربانی اس نوعیت کی ہے کہ غیر معمولی فوائد مغرب کو پہنچ رہے ہیں جن کا عام آدمی تصور بھی نہیں کر سکتا۔جو ریڈیو اور ٹیلی ویژن پر پرو پیگنڈا ہو رہا ہے اس پروپیگنڈا کے پس پردہ بہت سے امور ہیں جو واقعات ہیں اور ان کو سمجھے بغیر آپ کو اندازہ نہیں ہوسکتا کہ اس خوفناک جنگ کے نتیجے میں کونسی طاقت فائدے اٹھائے گی اور کونسی طاقت نقصان اٹھائے گی۔عراق کے لئے صائب مشورہ جہاں تک عراق کا تعلق ہے وہ آپ جانتے ہیں کہ نقصان ہی نقصان ہے اور بہت ہی دردناک حالات ہیں۔عراق کو میں نے خطبات میں یہ بھی کھلم کھلا مشورہ دیا تھا کہ تمہیں لازم تھا کہ انتظار کرتے۔خدا تعالیٰ نے ایک طاقت عطا کی اس طاقت کو آگے بڑھانے کے لئے ابھی کھلا وقت درکار تھا اس لئے جو بھی فیصلے کئے گئے ہیں کچے ہیں، بے وقت ہیں اور نا مناسب ہیں اس لئے اس وقت اس ظلم سے اپنا ہاتھ اٹھالو اور ترقی کرو۔جلسہ سالانہ پر میں نے عالم اسلام کو یہ توجہ دلائی تھی کہ یہ دعائیں کریں کہ اللہ تعالیٰ ہمیں ایک صلاح الدین عطا کر دے۔کچھ عرصہ ہوا جب میں نے بغداد کے حالات دیکھنے کے لئے ٹیلیویژن چلایا تو اس میں ایک پروگرام دکھایا جارہا تھا جس میں بعض مسلمان علماء بڑے جوش کے ساتھ صدر صدام حسین صاحب کو صلاح الدین قرار دے رہے تھے لیکن جذبات کے نتیجے میں، اندھی وابستگی کے نتیجے میں صلاح الدین پیدا نہیں ہوا کرتے۔صلاح الدین سے میری مراد یہ نہیں تھی کہ ایک جذباتی بت کھڑا کر دیا جائے اور اس کا نام صلاح الدین رکھ دیا جائے۔صلاح الدین بننے کے لئے بہت سی صلاحیتوں کی ضرورت ہے اور ان صلاحیتوں کے علاوہ لمبے صبر کی