خلیج کا بحران

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 121 of 376

خلیج کا بحران — Page 121

۱۲۱ ۲۳ نومبر ۱۹۹۰ء اس لئے کہ عرب تھے اس لئے وہ جنگ عرب اور عجم کی جنگ بن گئی۔اس طرح انہوں نے عراق کی حمایت کی لیکن نام اسلام کا استعمال کیا کہ ظلم ہو رہا ہے۔ایک ایسا ملک جو حقیقت میں اسلام سے دور جا پڑا ہے وہ مسلمانوں اور عربوں پر حملہ کر رہا ہے یعنی دہرا گناہ کر رہا ہے اور اب آپ دیکھ لیں کہ عالم اسلام ( یعنی سنی عالم اسلام کہہ لیں یا عرب عالم اسلام ) عین بیچ سے دو نیم ہو چکا ہے اور بہت سے عرب مسلمان ممالک مل کر ایک بہت بڑے مسلمان ملک عراق کے مقابل پر اکٹھے ہو گئے ہیں اور جنگ کی آگ بھڑ کنے کو تیار بیٹھی ہے جس کے متعلق قرآن کریم فرماتا ہے کہ اس وقت تم آگ کے کنارے پر کھڑے تھے، اللہ تھا جس نے اس سے تمہیں بچالیا۔پس ابھی اس آگ کے گڑھے میں یہ پڑے نہیں ہیں لیکن اگر قرآن کریم پر ان کا ایمان ہے اور اس آیت کا مطالعہ کرتے ہیں تو اس کے حوالے سے میں ان سب سے عاجزانہ التجا کرتا ہوں اور بڑی شدت سے التجا کرتا ہوں کہ خدا کے واسطے اس آیت کے درس آج کل اپنی مساجد میں ، اپنے ریڈیو پر، اپنے ٹیلیویژنز پر ، اپنے اخبارات میں دیں اور اپنے ملکوں کے باشندوں کو بتائیں کہ قرآن کریم تم سے کیا توقع کرتا ہے اور اگر تم لڑپڑے تو پھر ہرگز تمہاری موت اسلام کی موت نہیں ہوگی۔قرآن سچا ہے تمہارے دعوے جھوٹے ہو سکتے ہیں۔ی ناممکن ہے کہ قرآن جھوٹا نکلے اور تمہارے دعوے سچے ہوں قرآن کریم فرماتا ہے: لَا تَفَرَّقُوا ہر گز تفرقہ نہ اختیار کرنا۔خدا کی رسی کو اکٹھے مضبوطی سے تھامے رکھو اور یہی چیز ہے جو تمہیں جنگوں کی ہلاکتوں اور جنگوں کے عذاب سے بچا سکتی ہے۔پس تمام دنیا میں احمدیوں کو مسلمانوں کی توجہ اس طرف مبذول کرانی چاہئے کہ تمہیں ہلاکت سے بچانے کا نسخہ قرآن کریم کی ان آیات میں ہے جن کی میں نے ابھی تلاوت کی ہے ان پر غور کرو، خدا کا خوف کرو اور مسلمان، مسلمان کی گردن کاٹنے سے اپنے ہاتھ کھینچ لے کیونکہ نہ مقتول کی موت اسلام کی ہوگی اور نہ قاتل خدا کے نزدیک غازی ٹھہرے گا بلکہ ایک مسلمان کو قتل کرنے والا قرار دیا جائے گا اور اگر اس قتل میں غیر قوموں کو بھی وہ اپنا شریک کرلیں ، غیر مسلموں کو بھی آواز دے کر بلائیں کہ آؤ اور ہمارے بھائیوں کی گردن اڑانے میں ہماری مدد کرو تو پھر یہ اور بھی زیادہ