خلیج کا بحران — Page 120
۱۲۰ ۲۳ نومبر ۱۹۹۰ء ہے کہ اس کو پکڑو اور اجتماعی طور پر پکڑو اور تم یقیناً آگ کے عذاب سے بچائے جاؤ گے۔اگر تم لڑائی کے لئے تیار بھی بیٹھے ہو گے۔ایک دوسرے کے گریبان پکڑنے کے لئے مستعد ہو گے تو اللہ تعالیٰ اس رسی کی برکت سے تمہیں ایک دوسرے سے دور ہٹادے گا یعنی دشمنی کی حالت سے دور ہٹا دے گا اور پھر محبت کی حالت میں قریب کرے گا اور اتنا قریب کر دے گا کہ تم اس کی نعمت سے بھائی بھائی بن جاؤ گے۔کتنا حسین منظر ہے جو تقویٰ کے نتیجے میں پیدا کر کے دکھایا گیا ہے اور اس کے برعکس آج مسلمان علماء قرآن کے حوالے دے دے کر منہ سے جھا گئیں اڑاتے ہوئے ایک دوسرے سے نفرت کی تعلیم دیتے ہیں۔پہلے ۸ سال تک دنیا نے یہ تماشا دیکھا کہ ایران قرآن کے حوالے سے عراقیوں کے قتل کی تعلیم دے رہا تھا اور کہہ رہا تھا کہ یہ کا فر ہیں ان کو ماروان کو قتل کرو اور تم غازی بنو گے اور اگر تم ان کے ہاتھ سے مارے گئے تو تم شہید ہو گے اور عراقی علماء اسی زور اور شدت کے ساتھ اہل عراق کو یہ خوشخبری سنا رہے تھے کہ اگر تم ایرانی کافروں کے ہاتھوں مارے جاؤ گے تو یقیناً جنت میں جاؤ گے۔خدا کے نزدیک تمہارا مرتبہ شہداء کا مرتبہ ہو گا اور اگر ان بد بختوں کو مارو گے تو ایک کا فر کو واصل جہنم کر رہے ہو گے۔یعنی ان کی تقریریں اور خطبات ایسے نہیں تھے کہ جو وقتی طور پر پیغام کی صورت میں لوگوں تک پہنچائے جا رہے ہوں۔کھلم کھلا دنیا کے اخبارات میں یہ خبریں چھپتی تھیں۔روز مرہ یہ اعلانات ہوتے تھے۔ان کے ریڈیو، ان کے ٹیلیویژن ،ان کے اخبارات ان پرو پیگنڈوں میں ہمیشہ منہمک رہے یعنی ۸ سال تک۔اب آپ اندازہ کریں کہ یہ حبل اللہ ہے جس کی قرآن کریم تعلیم دیتا ہے۔اب وہی عراق ہے جس کے ساتھ سارا عرب تھا اور یہ جو اسلام اور غیر اسلام کی جنگ جاری تھی اب اس نے مختلف روپ دھارے ہیں۔کبھی تو یہ سنی اسلام کی شیعہ اسلام سے جنگ قرار دی گئی۔کبھی بد کرداروں اور غاصبوں کی ( جو حقیقت میں اسلام سے مرتد ہو چکے تھے ) ایمان والوں اور تقویٰ شعار لوگوں سے جنگ قرار دی گئی ، کبھی اہل عرب کی عجمیوں سے جنگ بن گئی اور جو بھی عرب ممالک عراق کے ساتھ اکٹھے ہوئے در حقیقت محض اسلام کے نام پر نہیں اکٹھے ہوئے تھے کیونکہ ان کے دوسری جگہ شیعوں سے اسی طرح تعلقات تھے بلکہ بہت سے شیعہ اکثریت کے ممالک بھی عراق کے ساتھ اکٹھے ہو گئے