خلیج کا بحران

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 110 of 376

خلیج کا بحران — Page 110

11+ ۲۳ نومبر ۱۹۹۰ء کے سپر د کر نے والے ہو۔اس آیت میں دو احکام جاری فرمائے گئے ہیں اور دونوں احکامات کے ساتھ ایک ایک سوال دل میں اٹھتا ہے۔فرمایا : تقویٰ اختیار کرو جیسا کہ تقویٰ اختیار کرنے کا حق ہے۔سوال یہ ہے کہ تقویٰ اختیار کرنے کا حق کیا ہے؟ کیسے تقویٰ کا حق ادا ہو گا ؟ دوسرا ارشاد یہ ہے کہ ہرگز نہ مروجب تک تم مسلمان نہ ہو اور مرنا اپنے اختیار میں نہیں ہے تو سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیسے ہم اپنی موت پر اختیار رکھیں گے۔کس طرح اس حکم کی اطاعت کر سکتے ہیں جبکہ ہمیں علم نہیں ہے کہ کس وقت موت ہمیں آجائے۔در حقیقت اس آیت کے یہ دونوں ٹکڑے جو یہ دو سوال اٹھاتے ہیں ایک دوسرے کا جواب ہیں۔ہر معاملہ میں متوازن رد عمل کی اہمیت اگر تم خدا کا ویسا تقویٰ اختیار کرو جیسا کہ تقویٰ اختیار کرنے کا حق ہے تو اس کے نتیجے میں تم ہمیشہ اپنے نفس کی ایسی حفاظت کرتے رہو گے کہ جس سے تم اپنے آپ کو ہر وقت اطاعت کی حالت میں رکھو گے۔یہاں مسلم سے مراد یہ نہیں ہے کہ تم اسلام لے آؤ کیونکہ مخاطب ہی مومنوں کو فرمایا گیا ہے۔يَايُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اے وہ لوگو جو ایمان لے آئے ہو تمہیں ہم حکم دیتے ہیں کہ اسلام کی حالت میں مرو اور اس حالت کے سوا کسی اور حالت میں ہرگز نہ مروتو یہاں اسلام لانے سے مراد اطاعت ہے۔خدا کی اطاعت کا اختیار کرنا اور خدا کے سپر در رہنا تو تقویٰ کا حق ہی ہے۔وہ لوگ جو کہتے ہیں کہ تقویٰ کا حکم ہے لیکن ہمیں علم نہیں کہ تقویٰ کیسے اختیار کیا جاتا ہے۔ان کے لئے یہ آیت ان کے اس سوال کا عمدہ جواب پیش کرتی ہے کہ تقویٰ اس طرح اختیار کیا جاتا ہے کہ اپنی زندگی کے ہر لمحہ نگران رہو کہ کسی وقت بھی ایسی باغیانہ حالت نہ ہو کہ اگر تم اس حالت میں مرجاؤ تو تم پر اس آیت کا مضمون صادق نہ آسکے اور یہ جو مضمون ہے کہ اپنی زندگی کی ہر حالت میں نگرانی کرنا۔یہ ایک بہت ہی مشکل مضمون ہے کیونکہ بسا اوقات انسان ماحول سے پیدا ہونے والے اثرات کے نتیجے میں جو رد عمل دکھاتا ہے وہ رد عمل تقویٰ سے ہٹا ہوتا ہے اور سپردگی کا رد عمل اسے نہیں کہا جاسکتا۔چنانچہ دنیا میں جتنے