خلیج کا بحران — Page 103
۱۰۳ ۱۶ نومبر ۱۹۹۰ء کی نظر میں تھے۔اس موقع پر ان کو استعمال کیا گیا۔اس موقع پر عراق کو شہ دی گئی اور مدد کے وعدے دیئے گئے۔میں نے جب پہلے اپنی کتاب Murder In The Name of Allah میں یہ لکھا کہ سعودی عرب نے ان کی مدد کی تھی اور سعودی عرب نے ہی انگیخت کیا تھا تو بعض لوگوں نے مجھے کہا کہ ثبوت کیا ہیں؟ یہ تو آپ کے اندازے ہیں۔اب ثبوت سامنے آ گیا ہے۔سعودی عرب ڈنکے کی چوٹ پر کہہ رہا ہے کہ ایسا ظالم ملک ہے کہ ہم نے ہی تو اس کو لڑنے کی طاقت دی تھی۔ہم نے ہی تو ایران کے مقابل پر اس کی پشت پناہی کی تھی اور اب ہمیں آنکھیں دکھانے لگا ہے تو کھل کر یہ حقیقت دنیا کے سامنے آچکی ہے۔میں یہ کہہ رہا ہوں کہ یہ جو خطرات مختلف جگہوں پر دبے ہوئے ہیں اور بے شمار ایسی قسمیں ہیں ان دبے ہوئے خطرات کی کشمیر کا جھگڑا بھی ان ہی میں شامل ہے اور بہت سے جھگڑے ہیں۔ان دبے ہوئے خطرات کو یہ تو میں دیکھتی ہیں اور اس کے باقاعدہ جس طرح جغرافیہ میں نقشے بنائے جاتے ہیں کہ کہاں کہاں کون کون سی معدنیات دفن ہیں اسی طرح سیاست کے نقشے بھی بنے ہوئے ہیں۔یہ جو بیدار مغز تعلیم یافتہ ترقی یافتہ قومیں ہیں ان کے ہاں با قاعدہ ان کے نقشے موجود ہیں اور ان کو علم ہے کہ کس وقت کس خطرے کو ابھارنا ہے اور کس بم کو چلانا ہے اور دھما کہ پیدا کرنا ہے اور یہ جو نیتیں ہیں یہ ساری انتقامی کارروائیوں کی غرض سے خاموشی سے ان کے ذہنوں میں موجود رہتی ہیں۔ظاہر اس وقت ہوتی ہیں جب ان کے خود غرضانہ مفادات ان کو ظاہر ہونے پر مجبور کر دیں۔ورنہ ذہنوں میں موجود ہیں اور مغربی ڈپلومیسی کا حصہ ہیں۔افسوس یہ مسلمان ممالک بھی اسی سیاست میں مبتلا ہو چکے ہیں۔افسوس یہ ہے کہ ہندو ممالک بھی اسی سیاست میں مبتلا ہو چکے ہیں اور بدھسٹ ممالک بھی اسی سیاست میں مبتلا ہو چکے ہیں۔ساری دنیا پر اسی ظالمانہ سیاست نے قبضہ کرلیا ہے۔جس کے اوپر جیسا کہ میں نے بیان کیا ہے کہ خود غرضی راج کر رہی ہے، نا انصافی راج کر رہی ہے۔ان خطرناک رجحانات کا جب تک قلع قمع نہ کیا جائے اس وقت تک دنیا امن میں نہیں آسکتی اور جنگ کے سائے دنیا کے اوپر سے نہیں ملیں گے بلکہ اب جبکہ روس اور امریکہ میں صلح ہو چکی ہے، یہ