خلیج کا بحران — Page 102
۱۰۲ ۱۶ نومبر ۱۹۹۰ء طاقتور بڑی قومیں ہیں ان کا رجحان یہ ہے کہ بہت سے خطرات کو اپنے سیاسی مفادات کی خاطر استعمال کرنے کے لئے یہ دبائے رکھتی ہیں اور اپنی سوچوں میں مزے لیتی رہتی ہیں کہ ہاں اگر فلاں شخص نے بد تمیزی کی یعنی فلاں لیڈر نے بدتمیزی کی یا فلاں قوم نے اپنے نئے پینترے دکھائے تو اس صورت میں ہم یہ جو وہاں دیا ہوا خطرہ ہے اس کو ابھار دیں گے اور اس آتش فشاں مادے کو چھیڑیں گے تاکہ پھر ان کو مزہ چکھائیں کہ اس طرح اختلافات ہوا کرتے ہیں۔اب آپ دیکھیں کہ ایران نے جب امریکہ کے ساتھ سختی کا سلوک کیا۔جماعت احمد یہ چونکہ انصاف پر مبنی ہے جماعت احمدیہ نے ہرگز ایک دفعہ بھی ایران کی اس معاملے میں تائید نہیں کی کہ امریکہ کے سفارت کاروں کو وہ اپنے قبضہ میں لے لیں۔حضرت اقدس محمد مصطفی ﷺ نے سفارت کاروں کا جو تقدس قائم فرمایا ہے اور اس بارے میں جو عظیم الشان تعلیم عطا کی ہے اس تعلیم سے انحراف کسی مسلمان حکومت کو زیب نہیں دیتا۔پس ہم نے ان کی تائید نہیں کی لیکن یہ کہنا درست نہیں کہ یکطرفہ ظلم تھا۔امریکہ نے شاہ ایران کے ذریعے ایک لمبے عرصے تک ایسے مظالم توڑے ہیں، ایران کے عوام پر اور اس طرح جبر و استبداد کا ان کو نشانہ بنایا گیا کہ اس کے نتیجے میں پھر دماغی توازن قائم نہیں رہتے۔پھر جب انتقام کا جذبہ ابھرتا ہے تو وہ کہاں متوازن سوچوں کے ساتھ صحیح رستوں پر چلایا جا سکتا ہے۔انتقام تو پھر اعتدال کی راہ نہیں دیکھا کرتا۔وہ تو سیلاب کی صورت میں ابھرتا ہے اور سیلاب ، کبھی یہ تو نہیں ہوا کرتا کہ دریاؤں کے رستوں کے او پر بعینہ ان کی حدود میں چلیں۔سیلاب تو کہتے ہی اس کو ہیں جو کناروں سے اچھلنے والا پانی ہوتا ہے۔پس انتقام کے جذبے بھی کناروں سے اچھلتے ہیں اور ان کے نتیجے میں پھر یہ زیادتیاں ہوتی ہیں، جیسے آپ نے دیکھیں لیکن اس پر جو انتقامی کارروائی پھر ایران کے خلاف کی گئی اس میں عراق کو استعمال کیا گیا اور عراق کو اس طرح استعمال کیا گیا کہ عراق کا ایران سے ایک تاریخی سرحدی اختلاف پایا جاتا تھا اور دونوں قوموں کے درمیان اس بات پر اتفاق نہیں تھا کہ کہاں ایران کی حدیں ختم ہوتی ہیں یا عراق کی ختم ہوتی ہیں اور ایران کی شروع ہوتی ہیں۔وہ خطرات ہمیشہ سے ترقی یافتہ بیدار مغز قوموں